کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 83
روزے اس کے ذمہ باقی ہیں ۔ [1] کن لوگوں پر روزہ رکھنا واجب؟ ماہِ رمضان کے شروع ہوجانے پر ہر بالغ مسلمان مرد اور عورت پر جو حالت صحت میں ہو اور مقیم ہو (یعنی حالت سفر میں نہ ہو) رمضان کے روزے فرض ہوجاتے ہیں اگر کوئی مرد یا عورت اس مہینہ میں بیمار ہو یا مسافر ہو تو وہ افطار کرسکتا ہے، یعنی اس کو روزہ نہ رکھنے کی رُخصت ہے۔ البتہ شفایابی یا سفر کی حالت ختم ہونے کے بعد رمضان کے علاوہ دوسرے ایام میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء کرے گا۔ ارشادِ ربانی ہے: ﴿فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ﴾ (البقرۃ:۱۵۸) ’’ تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے وہ روزہ رکھے ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔ ‘‘ جس کو روزہ رکھنے کی استطاعت نہ ہو؟ اسی طرح ایسا عمر دراز مرد یا ایسی عمر دراز خاتون جس کو روزے کی استطاعت نہ ہو یا ایسا دائمی مریض جس کے مرض کے زائل ہونے اور اس کی شفایابی کی توقع نہ ہو، خواہ مرد ہو یا عورت وہ بھی افطار کرسکتے ہیں ۔ (یعنی روزہ چھوڑ سکتے ہیں ) ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ملک کی عام غذا سے نصف صاع دینا ضروری ہوگا۔ [2] دلیل فرمانِ الٰہی ہے: ﴿وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ﴾ (البقرۃ:۱۸۴) ’’ اور جو لوگ اس کی بمشقت طاقت رکھنے والے ہیں وہ فدیہ میں ایک [1] روزوں کی قضاء کے ساتھ ہر دن کے بدلے نصف صاع گیہوں مساکین کو دینا ضروری ہے۔ [2] نصف صاع تقریباً سوا کلو ہوگا۔