کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 80
(( لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّطَمَ الْخُدُوْدَ وَشَقَّ الْجُیُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ۔))[1] ’’ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو رخساروں کو تھپڑ مارے، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔ ‘‘ صحیحین ہی میں یہ حدیث بھی ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ سے اپنی براء ت ظاہر کی ہے۔ [2] صالقہ :… مصیبت کے وقت چیخ و پکار کرنے والی عورت کو کہتے ہیں ۔ حالقہ :… مصیبت کے وقت سر منڈانے والی عورت کو کہتے ہیں ۔ شاقہ :… مصیبت کے وقت کپڑوں کو پھاڑنے والی عورت کو کہتے ہیں ۔ صحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت بھیجی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : (( أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰہ عليه وسلم لَعَنَ الْنَّائِحَۃِ وَالْمُسْتَمِعَۃِ۔))[3] لفظ (وَالْمُسْتَمِعَۃِ) سے مراد وہ عورت ہے جو بالقصد نوحہ سننے جائے اور اس کو نوحہ پسند ہو۔ مسلم خواتین کو مصیبت کے وقت ان حرام کاموں سے بچنا بہت ضروری ہے، مصیبت کے وقت صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی توقع رکھنا چاہیے، مصیبت کے وقت یہی طرزِ عمل ان کے گناہوں کے لیے کفارہ اور نیکیوں میں زیادتی کا سبب بن [1] صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب لیس منا من شق الجیوب، رقم: ۱۲۹۴۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم ضرب الخدود وشق الجیوب، رقم: ۲۸۵۔ ترمذی، ابواب الجنائز، باب ما جاء فی النھی عن ضرب الخدود وشق الجیوب، رقم: ۹۹۹۔ [2] حدیث کے الفاظ یوں ہیں : (( اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَرِیْئٌ مِّنَ الصَّالِقَۃ وَالحَاقَۃ وَالشَّاقَۃ۔)) [صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ما ینھی من الحلق عند المصیبۃ، رقم: ۱۲۹۶۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم ضرب الخدود وشق الجیوب، رقم: ۲۵۸۔ [3] ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب فی البکاء علی المیت والنوح، رقم: ۳۱۲۸۔