کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 77
دینے والیوں میں مَیں بھی تھی۔ سب سے پہلی چیز جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا تھا، وہ ازار (تہہ بند) تھا، اس کے بعد قمیص دی، پھر خمار (اوڑھنی) پھر چادر دی، اس کے بعد انھیں دوسرے کپڑے میں لپیٹا گیا۔ ‘‘ حدیث میں وارد لفظ ’’ الحقی ‘‘ کے معنی ازار (تہہ بند) کے ہیں ۔ امام شوکانی ( رحمہ اللہ ) نیل الاوطار (۲/۴۲) میں لکھتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے کفن میں ازار (تہہ بند) قمیص، خمار (اوڑھنی) چادر اور لفافہ مشروع ہے۔ ‘‘ فوت شدہ عورت کے بالوں کا حکم: اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنائی جائیں گی اور انہیں پیچھے ڈال دیا جائے گا، دلیل سیّدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے، جس میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکی کو غسل دینے کی صفت بیان کی ہے، فرماتی ہیں : (( فَضَفَرْنَا شَعَرَھَا ثَلاَثَۃَ قُرُوْنٍ وَأَلْقَیْنَاہُ خَلْفَھَا۔))[1] ’’ ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا کر انھیں پیچھے ڈال دیا تھا۔ ‘‘ جنازے کے ساتھ خواتین کے چلنے کا حکم: سیّدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : (( نُھِیْنَا عَنْ اَتبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلمْ یُعْزَمْ عَلَیْنَا۔)) [2] [1] صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب یلقی شعر المرأۃ خلفھا ثلثۃ قرون، رقم: ۱۲۶۳۔ صحیح مسلم، کتاب الجنائز، فصل فی مشط شعر النساء ثلثۃ قرون، رقم:… …۔ نسائی، کتاب الجنائز، باب نقض راس المیت، رقم: ۱۸۸۴۔ [2] صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب اتباع النساء الجنازۃ، رقم: ۱۲۷۸۔ صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب فی نھی النساء عن اتباع الجنائز، رقم: ۲۱۶۶۔ ابن ماجہ، ابواب الجنائز، باب ما جاء فی اتباع النساء الجنائز، رقم: ۱۵۷۷۔ ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب اتباع النساء الجنازۃ، رقم: ۳۱۶۷۔