کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 75
باب ششم: جنازے سے متعلق عورتوں کے مخصوص مسائل اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح پر موت لکھ دی ہے، صرف اسی کی ایک ذات ایسی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِِکْرَامِ ﴾ (الرحمٰن:۲۷) ’’ صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت و عزت والی ہے، باقی رہ جائے گی۔ ‘‘ انسانی جنازوں کے لیے کچھ مخصوص احکامات ہوتے ہیں ، جن کا نفاذ زندہ لوگوں پر ضروری ہوتا ہے۔ اس ضمن میں خواتین کے مخصوص احکام و مسائل کا ذکر ہم ذیل میں کر رہے ہیں ۔ عورتوں کا غسل جنازہ: (۱فوت شدہ عورتوں کو عورتیں ہی غسل جنازہ دیں گی، خواتین کو غسل دینا شوہر کے علاوہ دیگر مردوں کے لیے جائز نہیں ہے، صرف شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے، اسی طرح مرد جنازے کو مرد ہی غسل دیں گے، عورتیں اسے غسل نہیں دے سکتی ہیں ، البتہ بیوی اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے۔ چنانچہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا تھا اور سیّدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو غسل دیا تھا۔ [1] [1] محدث دیار شام علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ ’’ احکام الجنائز ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ؛ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں ، اس لیے کہ اس بارے میں منع کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا جب دلیل نہیں تو ایسا جائز ہے۔ بنا بریں اس مسئلے کی تائید میں دو حدیثیں بھی موجود ہیں :… (حدیث نمبر:۱) سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ؛ ’’ اگر صورتِ حال مجھے پہلے معلوم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازواجِ مطہرات ہی غسل دیتیں ۔‘‘ [سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، باب فی ستر المیت عند غسلہ] (حدیث نمبر:۲) سیّدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ؛ ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع قبرستان سے جنازے کے بعد تشریف لائے تو میرے سر میں شدید درد ہورہا تھا اور میں کہہ رہی تھی ہائے میرا سر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ ہائے میرا سر (غم نہ کرو) اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوگئی تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، میں خود تمہیں غسل دوں گا، خود ہی کفن پہناؤں گا، پھر تمہارا جنازہ پڑھ کر خود ہی دفن کروں گا۔ ‘‘ [المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۱۰/ ۲۵۹۶۶ (دار الفکر)۔]