کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 70
عورت کو زبان سے کچھ کہنے کے بجائے تالی بجانے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ اس کی آواز مردوں کے لیے فتنہ کا باعث بن سکتی ہے۔ (۶)امام کے سلام پھیرنے کے بعد عورتوں کو مسجد سے نکلنے میں جلدی کرنی چاہیے اور مردوں کو تھوڑی دیر ٹھہرے رہنا چاہیے تاکہ مسجد سے نکلنے والی عورتوں سے ان کی مڈ بھیڑ نہ ہو اور اس کی دلیل ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ’’عورتیں فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد فوراً کھڑی ہوجاتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد اپنی اپنی جگہ پر تھوڑی دیر بیٹھے رہتے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو دوسرے لوگ بھی اٹھ جاتے۔ ‘‘ امام زہری کہتے ہیں : ’’ ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ ایسا اس لیے کرتے تھے، تاکہ جو عورتیں مسجد سے لوٹنا چاہیں وہ لوٹ جائیں ۔ واللہ اعلم۔ ‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [1] (دیکھئے: الشرح الکبیر علی المقنع: ۱/ ۴۲۲) امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (۲/ ۳۲۶) میں لکھتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ امام وقت (خلیفہ یا سلطان) کے لیے مستحب ہے کہ رعایا کے احوال کا خیال رکھے، اسی طرح حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ محرمات اور ممنوعات کی جانب لے جانے والے امور اور شک و شبہ کی جگہوں سے اجتناب میں احتیاط برتنی چاہیے اور یہ کہ عام گزرگاہوں میں بھی مرد و زن کا اختلاط مکروہ ہے،چہ جائیکہ گھروں میں ۔ ‘‘ باجماعت نماز میں خواتین مردوں سے چند امور میں مختلف ہیں : امام نووی رحمہ اللہ المجموع (۳/۴۵۵) میں لکھتے ہیں : ’’ باجماعت نماز کی ادائیگی میں خواتین مردوں سے چند امور میں مختلف ہیں : ۱۔خواتین کے حق میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی اس قدر تاکید نہیں کی گئی [1] صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب صلوٰۃ النساء خلف الرجال، رقم: ۸۷۵۔