کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 68
ساتھ نکلے، عام شاہراہوں اور بازاروں کو چھوڑ کر خالی جگہوں کو اپنا راستہ بنائے، اپنی آواز سنانے سے پرہیز کرے، بیچ راستوں کو چھوڑ کر کنارے چلنے کی کوشش کرے۔ ‘‘ (۴)عورت اگر اکیلی ہے تو نماز باجماعت میں مردوں کے پیچھے تنہا کھڑی ہوگی، جیسا کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو میں اور ایک یتیم (ہم دونوں ) آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور بڑھیا عورت ہمارے پیچھے کھڑی ہوئی۔ [1] اور انہی سے مروی ہے کہ میں نے اپنے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی تو میں اور ایک یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ہماری ماں ام سلیم ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں ۔ [2] اور اگر عورتیں ایک سے زیادہ ہیں تو وہ مردوں کے پیچھے صف یا حسب ضرورت چند صفیں بنا کر کھڑی ہوں گی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو بچوں کے آگے کھڑا کرتے تھے پھر بچوں کو اور بچوں کے بعد عورتوں کو۔ (مسند احمد) اور سیّدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( خیر صفوف الرجال أولھا وشرھا آخرھا وخیر صفوف النساء آخرھا وشرھا أولھا۔)) [3] [1] صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی الحصیر، رقم: ۳۸۰۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب جواز اجماعۃ فی النافلۃ والصلوٰۃ علی حصیر، رقم: ۱۴۹۹۔ ترمذی، ابواب الصلوٰۃ، باب ما جاء فی الرجل یصلی ومعہ رجال ونساء، رقم: ۲۳۴۔ نسائی، کتاب الامامۃ والجماعۃ، باب اذا کانوا ثلثۃ وامرأۃ، رقم: ۸۴۱۔ ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب اذا کانوا ثلثۃ کیف یقومون، رقم: ۶۱۲۔ [2] صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب المرأۃ وحدھا تکون صفًا، رقم: ۷۲۶۔ [3] صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف واقامتھا، رقم: ۹۸۵۔ ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب صفوف النساء، رقم: ۶۷۸۔ ابن ماجہ، ابواب اقامۃالصلوٰۃ والسنۃ فیھا، باب صفوف النساء، رقم: ۱۰۰۰۔ ترمذی، ابواب الصلوٰۃ، باب ما جاء فی فضل الصف الاول، رقم: ۲۲۴۔ نسائی، کتاب الامامۃ والجماعۃ، باب ذکر خیر صفوف النساء وشر صفوف الرجال، رقم: ۸۲۱۔