کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 67
(۳)کپڑوں اور زیورات میں بن سنور کر نہیں نکلیں گی۔ ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : (( لَوْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم رَأٰی مِنَ النِّسَائِ مَا رَأَیْنَا لَمَنَعَھُنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ کَمَا منعَتْ بُنُوْ إِسْرَائِیْلَ نِسَائَ ھَا )) [1] ’’ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی اس حالت کا مشاہدہ فرماتے جس کا ہم مشاہدہ کر رہی ہیں تو انھیں مسجد سے روک دیتے، جس طرح بنو اسرائیل نے اپنی عورتوں کو روک دیا تھا۔ ‘‘ امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : (( لَوْ رَأَی مَا رَأَیْنَا )) یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسین و جمیل لباس، خوشبو، زیب و زینت اور بے پردگی کا مشاہدہ کرتے جن کا آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں جب کہ پہلے خواتین موٹے کپڑوں ، کمبلوں اور دبیز چادروں میں نکلا کرتی تھیں ۔ [2] امام ابن الجوزی رحمہ اللہ احکام النساء (ص: ۳۹) میں لکھتے ہیں : ’’ عورت کے لیے یہی مناسب ہے کہ باہر نکلنے سے حتی الامکان پرہیز کرے، کیونکہ وہ اپنے طور پر کسی فتنہ اور شر سے محفوظ رہ سکتی ہے، لیکن دوسرے لوگ اسی فتنہ و فساد میں مبتلا ہوسکتے ہیں ۔ ان کے محفوظ و مامون رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے، اگر اسے مجبوراً باہر نکلنے کی ضرورت پیش آجائے تو اپنے خاوند کی اجازت سے بناؤ سنگھار کے بغیر مکمل سادگی کے [1] صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب خروج النساء الی المساجد باللیل، رقم: ۸۶۹۔ صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب خروج النساء الی المساجد اذا لم یترتب علیہ فتنۃ، رقم: ۹۹۹۔ ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب ما جاء فی خروج النساء الی المساجد والتشدید فی ذلک، رقم: ۵۶۹۔ [2] نیل الاوطار للشوکانی رحمہ اللّٰہ ۳/ ۱۴۱،۱۴۰۔