کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 66
’’ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو اور ضروری ہے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں ۔ ‘‘ حدیث میں مذکور لفظ (تفلات) کے معنی ہیں : ’’ خوشبو استعمال کیے بغیر۔ ‘‘ اسی طرح سیّدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: (( أَیُّمَا اِمْرَأَۃِ أَصَابَتْ بُخُوْرًا فَلاَ تَشْھَدُ مَعَنَا الْعِشَائَ الْآخِرَۃِ۔))[1] ’’ جس عورت نے خوشبو لگا رکھی ہو وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو۔ ‘‘ امام مسلم رحمہ اللہ نے سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیّدنا زینب رضی اللہ عنہا سے بھی حدیث روایت کی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں : (( اِذَا شَھِدَتْ اِحْدَا کُنَّ الْمَسْجِدَ فَلاَ تَمَسَّ طِیْبًا۔)) [2] ’’ تم میں سے کوئی عورت اگر مسجد جانا چاہتی ہو تو خوشبو استعمال نہ کرے۔ ‘‘ امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (۳/ ۱۴۰، ۱۴۱) میں لکھتے ہیں : ’’ اس حدیث سے خواتین کے مسجد جانے کا پتہ چلتا ہے، لیکن عورتوں کے جانے کا جواز اسی صورت میں ہوسکتا ہے، جب کہ ان کے مسجد جانے میں کسی قسم کا شر و فساد یا خوشبو جیسی کوئی فتنہ کو بھڑکانے والی چیز نہ پائی جاتی ہو۔ ‘‘ [1] صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب خروج النساء الی المساجد اذا لم یترتب علی فتنۃ وانھا لا تخرج مطیبۃ، رقم: ۹۹۸۔ ابو داؤد، کتاب الترجل، باب ما جاء فی المرء ۃ تطیب الخروج، رقم: ۴۱۷۵۔ نسائی، کتاب الزینۃ، باب النہی للمرأۃ أن شھدا الصلوٰۃ اذا اصابت من البخور، رقم: ۵۱۳۱۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب خروج النساء الی المساجد اذا لم یترتب علیہ فتنۃ وانھا لا تخرج مطیبۃ، رقم: ۹۹۷۔