کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 61
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ائمہ تفسیر کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ اضاعت صلاۃ سے مراد نماز کے اوقات کو ضائع کرنا ہے، بایں طور کہ نماز کو اس کا وقت نکل جانے کے بعد ادا کیا جائے اور لفظ ’’ غی ‘‘ جس کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ نمازوں کو ضائع کرنے والے اسے پائیں گے، اس کی تفسیر خسارہ اور نقصان سے کی ہے۔ اس کی ایک تفسیر یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وہ جہنم میں ایک وادی ہے۔ نماز سے متعلق خواتین کے مردوں سے الگ کچھ مخصوص احکام ہیں ، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: خواتین کے نماز کے مخصوص احکام: (۱عورتوں پر نہ تو اذان فرض ہے اور نہ اقامت کیونکہ اذان بلند آواز سے کہنی مشروع ہے اور عورتوں کے لیے آواز بلند کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا اذان اور اقامت عورتوں کے لیے درست نہیں ہے۔ المغنی (۲/ ۸۶) میں علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس مسئلے میں کسی اختلاف کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔ (۲نماز میں عورت سوائے چہرے کے اپنے آپ کو مکمل طور پر چھپائے گی، ہتھیلیوں اور قدموں کے بارے میں اختلاف ہے اور یہ اس صورت میں جبکہ کسی غیر محرم شخص کی نظر اس پر نہ پڑ رہی ہو اور اگر کوئی غیر محرم شخص اسے دیکھ رہا ہے تو مکمل طور پر ستر پوشی ضروری ہے جس طرح خارج نماز میں پردہ کرنا ضروری ہے۔ نماز میں عورت کو اپنا سر، گردن اور جسم کے تمام حصوں کو یہاں تک کہ پیر کی پشت کو بھی چھپانا ضروری ہے۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( لاَ یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلاَۃَ حَائِضٍ یَعْنِیْ مَنْ بَّلَغَتِ الْحَیْضَ… إِلاَّ بِخمَارٍ۔))[1] [1] المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۹/۲۵۲۲۲۔ ترمذی، ابواب الصلوٰۃ، باب ما جاء لا تقبل صلاۃ الحائض الا بخمار، رقم: ۳۷۷۔ ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ باب المرأۃ تصلی بغیر خمار، رقم: ۶۴۱۔ ابن ماجہ، ابواب التمیم، باب اذا حاضۃ الجاریۃ لم تصل الا بخمار، رقم: ۶۵۴۔