کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 46
(۱نفاس والی عورت سے وطی (جماع) حرام ہے، جس طرح حائضہ سے حرام ہے، وطی کے علاوہ ہر طرح سے استمتاع (لطف اندوز ہونا) مباح ہے۔ (۲نفاس والی عوت کا حائضہ کی طرح نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور کعبہ کا طواف کرنا حرام ہے۔ (۳قرآنِ کریم کا چھونا یا پڑھنا حرام ہے، اگر بھول جانے کا خدشہ لاحق ہو تو حائضہ کی طرح مصحف کو چھوئے بغیر قرآنِ کریم پڑھ سکتی ہے۔ (۴نفاس کی وجہ سے چھوڑے ہوئے فرض روزوں کی قضاء حائضہ کی طرح نفاس والی عورت پر بھی واجب ہے۔ (۵نفاس کے خاتمہ پر غسل (طہارت) واجب ہے، جس طرح حائضہ پر حیض کے بعد غسل (طہارت) واجب ہے۔ دلائل: سیّدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ نفاس والی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چالیس دن بیٹھا کرتی تھی۔ ‘‘[1] شیخ مجد ابن تیمیہ ( رحمہ اللہ ) منتقی الاخیار (۱/۱۸۴) میں لکھتے ہیں : ’’ میں کہتا ہوں حدیث کے معنی ہیں نفاس والی عورت کو چالیس دن تک بیٹھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ یہ معنی اس لیے کہ کسی بھی ایک زمانہ کی عورتوں کا نفاس یا حیض میں متفق ہونا ناممکن ہے۔ ‘‘ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ ازواجِ مطہرات (رضی اللہ عنہن) میں سے کوئی چالیس (دن) رات تک [1] ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ما جاء فی تمکث النفساء، رقم: ۱۳۹۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب ما جاء فی وقت النفساء، رقم: ۳۱۱۔ ابن ماجہ، ابواب التمیم، باب النفساء کم تجلس، رقم: ۶۴۸۔