کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 45
عورت کا حکم وہی ہوگا جو ایک مستحاضہ عورت کا ہوتا ہے۔ عموماً نفاس کی اکثر مدت ابتدائے ولادت یا اس سے دو یا تین دن پہلے (جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے) سے چالیس دن ہے۔ دلیل سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، فرماتی ہیں : (( کَانَتِ النَّفَسَائُ تَجْلِسُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا۔)) [1] ’’ نفاس والی عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس دن (نفاس میں ) بیٹھا کرتی تھیں ۔ ‘‘ امام ترمذی رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق اس پر اہل علم کا اجماع ہے، اگر چالیس دن سے پہلے عورت پاک ہوجائے بایں طور کہ خون کا آنا بند ہوجائے تو وہ غسل (طہارت) کرکے نماز شروع کردے گی۔ اس کے اقل مدت کی کوئی حد نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں کوئی حد وارد نہیں ہوئی ہے اور اگر چالیس دن مکمل ہوجائیں اور خون کا آنا بند نہ ہو تو اگر یہ اس کے حیض کی سابقہ عادت کے موافق ہو تو اسے حیض مانا جائے گا اور اگر حیض کی سابقہ عادت کے مطابق نہ ہو اور خون کا سلسلہ برابر جاری ہو تو اسے استحاضہ کا خون تصور کیا جائے گا، اس خون کی وجہ سے چالیس دن کے بعد عبادت ترک نہیں کرے گی۔ اگر چالیس دن سے بڑھ جائے اور خون کا سلسلہ برابر جاری بھی نہ ہو اور حیض کی سابقہ عادت کے مطابق بھی نہ ہو تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ نفاس کے احکام: نفاس کے بھی وہی احکام ہیں جو حیض کے ہیں ۔ ان کو ذیل میں بیان کیا جارہا ہے: [1] ترمذی، کتاب الطہارۃ، باب ما جاء فی کم تمکث النفساء، رقم: ۱۳۹۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب ماجاء فی وقت النفساء، رقم: ۳۱۱۔ ابن ماجہ، ابواب التیمم، باب النفساء کم تجلس، رقم: ۶۴۸۔