کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 44
’’ حیض کے ایام میں نماز ترک کردے گی، پھر غسل (طہارت) کرے گی اور ہر نماز کے وقت وضو کرے گی۔ ‘‘ اس حدیث کو ابو داؤد، ابن ماجہ اور ترمذی رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( أَنْعَتُ لَکِ الْکُرْسَفَ تُحَشِّیْنَ بِہِ الْمَکَانَ۔)) [1] ’’ کرسف رکھنے کا طریقہ تم کو بتاتا ہوں ، اس کے ذریعہ اس جگہ کو بھر دو۔ ‘‘ کرسف :… روئی کو کہتے ہیں اور آج کے زمانے میں پائے جانے والے طبی کیئر فری ( Care Free ) کا استعمال بھی ممکن ہے۔ نفاس اور اس کے مسائل: نفاس اس خون کو کہتے ہیں جو رحم مادر سے ولادت کے وقت اور ولادت کے بعد خارج ہوتا ہے، درحقیقت وہ حمل کے وقت رحم میں رکے ہوئے خون کا بچا ہوا حصہ ہوتا ہے، ولادت کے بعد آہستہ آہستہ یہ بچا ہوا خون خارج ہوتا ہے، ولادت سے پہلے جو خون آثار ولادت کے ساتھ دکھلائی دیتا ہے وہ نفاس ہی کا خون ہوتا ہے۔ فقہائے کرام نے ولادت سے پہلے دو یا تین دن کی قید لگائی ہے، عموماً نفاس کی ابتداء ولادت کے ساتھ ہوتی ہے اور (ولادت کے سلسلے میں ) اسی ولادت کا اعتبار ہوگا جس میں انسان کی تخلیق نمایاں ہوجاتی ہے، اقل مدت جس میں انسان کی تخلیق واضح ہوجاتی ہے۔ ۸۱دن اور اکثر مدت تین مہینے ہے۔ اگر اس مدت سے پہلے کوئی چیز عورت سے ساقط ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خون بھی آجاتا ہے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دی جائے گی، اس خون کی وجہ سے وہ نماز روزہ ترک نہیں کرے گی، کیونکہ یہ فاسد خون ہے، لہٰذا اس [1] ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب فی المستحاضہ انھا تجمع بین الصلوٰتین بغسل واحد، رقم: ۱۲۸۔ ابن ماجہ، ابواب التمیم، باب ما جاء فی المستحاضہ التی قد عدت ایام اقرائھا، رقم: ۶۲۲۔