کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 43
چیز، یا تمیز نہ ہوگی کیونکہ سیاہ گاڑھے بدبودار خون کا حیض ہونا زیادہ اقرب ہے۔ بہ نسبت سرخ خون کے یا عورتوں کی جو عموماً عادت ہوتی ہے، اس کا اعتبار ہوگا کیونکہ اصل یہ ہے کہ کسی تنہا فرد کو اکثریت و اغلبیت کے ساتھ شامل کیا جائے گا، یہ تینوں علامات ایسی ہیں جن کا احادیث اور قیاس و تجربہ سے پتہ چلتا ہے۔ ‘‘ اس کے بعد موصوف رحمہ اللہ نے باقی تین علامتوں کو بیان کیا ہے اور آخر میں لکھتے ہیں : ’’ اس سلسلے میں صحیح ترین قول یہی ہے کہ انہی علامتوں کا اعتبار کیا جائے جو احادیث میں وارد ہوئی ہیں ، ان کے علاوہ دیگر علامتوں کو لغو قرار دے دیا جائے گا۔ ‘‘ مستحاضہ کو طاہر ماننے کی صورت میں کیا کرنا ہوگا؟ (۱:سابقہ تفصیلات کے مطابق اعتبار کیے گئے حیض کے خاتمہ پر عورت پر غسل (طہارت) واجب ہوگا۔ (۲:خارج ہونے والے خون کی صفائی کے لیے ہر نماز کے وقت اپنی شرمگاہ کو دھوئے گی اور اس جگہ روئی وغیرہ رکھ کر بہنے والے خون کو روکے گی اور روئی کو گرنے سے بچانے کے لیے کوئی چیز (لنگوٹ) باندھ لے یا انڈر ویئر استعمال کرے گی پھر نماز کے وقت وضو کرے گی کیونکہ مستحاضہ عورت کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( تَدَعَ الصَّلاَۃَ أَیَّامَ أَقْرَائِھَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلاَۃٍ۔)) [1] [1] ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ماجاء ان المستحاضہ تتوضأ لکل صلوٰۃ، رقم: ۱۲۶۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی المرأۃ تستحاض ومن قال تدع الصلوٰۃ، رقم: ۲۷۵۔ ابن ماجہ، ابواب التمیم، باب ما جاء فی المستحاضہ التی قد عدت ایام اقرائھا، رقم: ۶۲۴۔