کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 42
(( إِنَّمَا ھِيَ رِکْضَۃٌ مِّنَ الشَّیْطَانِ فَتحِیْضِي سِتَّۃَ أَیَّامَ أَوْ سَبْعَۃَ أَیَّامٍ ثُمَّ اغْتَسِلِيْ فَإِذَا اسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ أَوْ ثَلاَثَۃً وَّعِشْرِیْنَ وَصُوْمِي وَصَليَّ فَإِنَّ ذٰلِکَ یُجْزِئُکِ وَکَذٰلِکِ فَافْعَلِيْ کَمَا تَحِیْضُ النِّسَائُ۔))[1] ’’ یہ شیطان کی جانب سے ایک دھوکا ہوتا ہے، لہٰذا چھ دن یا سات دن حیض کے ہے تو ۲۴ یا ۲۳ دن نماز پڑھو، روزہ رکھو اور نوافل پڑھو (یعنی اپنے آپ کو پاک تصور کرو) بلاشبہ یہی تمہارے لیے کافی ہے، ایسے ہی (ہر ماہ) تم کرو، جس طرح عام عورتیں حیض میں ہوتی ہیں ۔‘‘ اس حدیث کو ائمہ خمسہ یعنی امام احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ سابقہ کلام کا ماحصل یہ ہے کہ صاحب عادت عورت اپنے معاملہ کو اپنی عادت پر محمول کرے گی یعنی اپنی سابقہ عادت کے ذریعہ حیض عدم حیض میں تفریق کرے گی۔ صاحب تمیز عورت حیض و استحاضہ کے خون میں تفریق و تمیز پر اعتماد کرتے ہوئے عمل کرے گی اور ایسی عورت جو نہ تو صاحب عادت ہو اور نہ صاحب تمیز ہو وہ چھ یا سات دن (ہر مہینہ میں ) حیض میں شمار کرے گی، اسی طرح مستحاضہ عورت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد تینوں قسم کی احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں : ’’ استحاضہ کی جو علامات بیان کی جاتی ہیں وہ چھ ہیں یا تو عادت ہوگی اور یہی قوی ترین علامت ہے، کیونکہ اصلاً حیض کا پایا جانا ہے نہ کہ کسی دوسری [1] ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب فی المستحاضہ انھا تجمع بین الصلوتین یغسل واحد، المسند لامام الاحمد، رقم الحدیث: ۱۰/ ۲۷۲۱۴۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلوٰۃ، رقم ۲۸۷۔ نسائی، کتاب بدوا الحیض، باب ذکر الاقرآء، رقم: ۳۵۶۔ ابن ماجہ، ابواب التمیم، باب ما جاء فی البکر اذا ابتدأت مستحاضہ، رقم: ۶۲۷۔