کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 41
پائے جاتے ہوں ، بایں طور کہ سیاہ رنگ کا ہو یا گاڑھا یا بدبودار ہو اور بقیہ خون میں حیض کے اوصاف نہ پائے جاتے ہوں ، بایں طور کہ سرخ رنگ کا ہو یا بدبودار اور گاڑھا نہ ہو، اس طرح کی صورتِ حال میں جس خون کے اندر حیض کی صفت پائی جائے گی اسے حیض شمار کیا جائے گا، لہٰذا عورت اس مدت میں اپنے آپ کو حائضہ تصور کرکے نماز روزہ ترک کردے گی، اس کے علاوہ باقی خون کو استحاضہ کا خون شمار کیا جائے گا، جس خون میں حیض کی صفت پائی جائے گی، اس کے بند ہونے پر غسل طہارت کرکے عورت نماز اور روزہ شروع کردے گی اور اپنے آپ کو پاک و صاف تصور کرے گی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تھا: (( إِذَا کَانَ دم الْحَیْضُ فَإِنَّہٗ أَسْوَدٌ یُعْرَفُ فَأَمْسِکِيْ عَنِ الصَّلاَۃِ فَإِذَا کَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّأِی وَصَلِّيْ)) [1] ’’ اگر حیض کا خون ہوگا تو وہ سیاہ معروف ہوگا، لہٰذا تم اس خون میں نماز سے رک جاؤ اور اگر اس کے برعکس دوسری طرح کا ہو تو تم وضو کرکے نماز پڑھو۔ ‘‘ اس حدیث کو امام ابو داؤد اور امام نسائی رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔ امام ابن حبان اور امام حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استحاضہ والی عورت خون کے اعتبار کر کے حیض و عدم حیض کے درمیان تفریق کرے گی۔ تیسری حالت : یہ ہے کہ عورت کو اپنی ماہواری کے ایام کا پتہ ہی نہ ہو، یعنی پہلے سے اس کی کوئی عادت ہی نہ ہو اور خون میں بھی کوئی ایسا وصف نہ پایا جاتا ہو، جس کے ذریعے حیض اور عدم حیض کے درمیان تفریق کرسکتی ہو تو وہ حیض کی اکثر مدت ہر مہینہ میں چھ یا سات دن حیض کا شمار کرے گی، کیونکہ یہی بیشتر عورتوں کی عادت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: [1] ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلوٰۃ، رقم: ۲۸۶۔ نسائی، کتاب بدو الحیض، باب الفرق بین دم الحیض والاستحاضہ، رقم: ۳۶۲۔