کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 38
شرم گاہ کے اندر خوشبو میں بھگوئی روئی کا رکھنا مستحب ہے، کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو اس کا حکم دیا تھا، جیسا کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [1] تنبیہ : حیض یا نفاس والی عورت کا خون اگر سورج غروب ہونے سے پہلے بند ہوجائے اور عورت حیض یا نفاس سے پاک ہوجائے تو اس دن کی ظہر اور عصر دونوں نمازوں کا ادا کرنا اس پر لازم ہوگا اور طلوعِ فجر سے پہلے طہارت حاصل کرتی ہے تو اس رات کی مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کا ادا کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ حالت عذر میں دوسری نماز کا وقت پہلی نماز کے وقت کو بھی شامل ہوتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ (۲۲/ ۴۳۴) میں لکھتے ہیں : ’’ اسی وجہ سے جمہور علماء جیسے امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا یہ مذہب ہے کہ حائضہ عورت اگر دن کے آخری حصہ میں پاک ہوتی ہے تو ظہر اور عصر دونوں نمازیں ادا کرے گی اور اگر رات کے آخری حصہ میں پاک ہوتی ہے تو مغرب و عشاء دونوں نمازیں ادا کرے گی، یہی قول سیّدنا عبدالرحمن بن عوف، سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا عباس ( رضی اللہ عنہم ) سے بھی منقول ہے۔ اس لیے کہ حالت عذر میں وقت دو نمازوں کے درمیان مشترک ہوتا ہے، لہٰذا اگر دن کے آخری حصہ میں پاک ہوتی ہے تو ظہر کا وقت ابھی باقی ہے، چنانچہ عصر کی نماز سے پہلے ظہر کی نماز ادا کرے گی اور اگر رات کے آخری حصے میں پاک ہوتی ہے، تو حالت عذر میں مغرب کا وقت باقی ہے، چنانچہ عشاء کی نماز سے پہلے مغرب کی نماز ادا کرے گی۔ اگر کسی نماز کا وقت داخل ہوگیا اور اس نماز کی ادائیگی سے پہلے ہی عورت کو حیض یا نفاس کا خون آگیا تو راجح قول کے مطابق اس نماز کی قضا اس پر لازم نہیں ہے جس [1] صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب استحباب استعمال المغتسلہ من الحیض فرصۃ من مسک، رقم: ۷۵۰۔