کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 37
کا رنگ بھی مختلف ہوتا ہے۔ دوسری علامت : خشکی، شرمگاہ میں کپڑے کا ٹکڑا یا روئی ڈال کر نکالے تو روئی یا کپڑے کا ٹکڑا بالکل خشک نکلے، اس پر نہ تو خون کا اثر ہو اور نہ ہی زرد یا مٹیالے رنگ کے مادے کا۔ حیض کا خون بند ہونے کے بعد عورت کیا کرے؟ خون بند ہونے کے بعد عورت پر غسل لازم ہے، چنانچہ طہارت کی نیت سے اپنے پورے بدن پر پانی بہائے گی، کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( فَإِذَا أَقْبَلَتِ اَلْحَیْضَۃُ فَدَعِی الصَّلاَۃَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِيْ وَصَلِّي۔)) [1] ’’ جب تمہیں حیض آجائے تو نماز ترک کردو اور جب بند ہوجائے تو غسل کرو اور نماز پڑھو۔ ‘‘ غسل کا طریقہ: حدث (ناپاکی) دور کرنے کی یا نماز وغیرہ کے لیے طہارت (پاکی) حاصل کرنے کی نیت کرے۔ پھر بسم اللہ کہہ کر نماز جیسا وضو کرے اور تین بار ہاتھوں میں پانی لے کر سر کے بالوں میں اچھی طرح ڈالے ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہائے، بالوں کی جڑوں کو بھی اچھی طرح تر کرے، اگر بال کی چوٹیاں بندھی ہوئی ہوں تو ان کا کھولنا ضروری نہیں ہے، بس انہیں پانی سے تر کرلے، اگر پانی کے ساتھ بیری کی پتیاں یا نظافت حاصل کرنے کی کوئی چیز استعمال کرلے تو بہتر ہے، غسل سے فراغت کے بعد [1] صحیح بخاری، کتاب الحیض، باب اقبال المحیض وادبارہ، رقم: ۳۲۵۔ صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب المستحاضہ وغسلھا وصلوتھا، رقم: ۷۵۳۔ ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب فی المستحاضہ، رقم: ۱۲۵۔ نسائی، کتاب بدو الحیض، باب ذکر الاستحاضہ اقبال الدم وادبارہ، رقم: ۳۵۰۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلوٰۃ، رقم: ۲۸۲۔ ابن ماجہ، ابواب التمیم، باب ما جاء فی المستحاضہ التی قد عدت ایام اقرائھا، رقم: ۶۲۱۔