کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 35
(( نَاوِلیِنِی الْخُمُرَۃَ مِنَ الْمَسْجِدَ، فَقُلْتُ إِنِّی حَائِضُ، فَقَالَ: إِنَّ حَیْضَتُکِ لَیْسَتْ بِیِدِکِ۔)) [1] ’’ مسجد سے مجھے چٹائی دے دو، سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں حیض سے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ‘‘ (منتقی ۱/ ۱۴۰) میں اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ تمام اصحاب کتب ستہ کی جانب منسوب کیا گیا ہے۔ تہلیل (لا الہ الا اللہ)، تکبیر (اللہ اکبر) ، تسبیح (سبحان اللہ) کہنے نیز دیگر شروعی ذکر و اذکار اور دعاؤں کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح صبح و شام سوتے اور جاگتے وقت مشروع اذکار و وظائف کے پڑھنے نیز تفسیر، فقہ، حدیث وغیرہ سے متعلق علمی کتابوں کے پڑھنے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے۔ فائدہ اوّل: حائضہ عورت سے خارج ہونے والے صفرہ یا کدرہ (زرد یا مٹیالے رنگ کا مادہ) کا حکم: صفرۃ :… پیپ کی مانند ایک قسم کا مادہ جس پر زردی غالب ہوتی ہے۔ کدرۃ :… مٹیالے رنگ کے گندے پانی کی مانند ایک مادہ۔ اگر ماہواری کے ایام میں یہ دونوں مادے عورت سے خارج ہوں تو انہیں حیض ہی شمار کیا جائے گا اس پر حیض کے تمام احکام لاگو ہوں گے، اگر ایام حیض کے علاوہ دیگر ایام میں یہ دونوں مادے خارج ہوں تو عورت انہیں کچھ بھی شمار نہیں کرے گی، بلکہ اپنے [1] صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجہا، رقم: ۶۸۹۔ ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب الحائض تناول الشيء فی المسجد، رقم: ۱۳۴۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب الحائض تناول فی المسجد، ۲۶۱۔ نسائی، کتاب بدو الحیض باب استخدام الحائض، رقم: ۲۷۲۔ ابن ماجہ، ابواب التمیم، باب الحائض تناول الشی من المسجد، رقم: ۶۳۲۔