کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 33
’’ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہم حالت حیض میں ہوتیں تو ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ ‘‘ نماز اور روزہ میں فرق کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس کی بار بار تکرار ہوتی ہے، لہٰذا مشقت و پریشانی کے سبب اس کی قضاء کا حکم نہیں دیا گیا۔ روزہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے، یعنی سال میں صرف ایک مرتبہ اس کا وقت آتا ہے۔ واللہ اعلم حیض کی حالت میں قرآنِ کریم پڑھنا: ج:حیض کی حالت میں عورت کا قرآنِ کریم بغیر کسی حائل (اوٹ) کے چھونا حرام ہے۔ دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿لَا یَمَسُّہُ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ ﴾ (الواقعہ:۷۹) ’’ اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں ۔ ‘‘ سیّدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط لکھا تھا، اس میں یہ بھی تھا: (( لاَ یَمَسُّ الْمُصْحَفَ إِلاَّ طَاھِرٌ۔)) [1] ’’ مصحف کو صرف پاک و صاف شخص ہی چھو سکتا ہے۔ ‘‘ چونکہ اس حدیث کو تمام لوگوں نے قبولیت کا درجہ دیا ہے، یعنی تمام لوگوں نے اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے، اس لیے یہ حدیث متواتر کی مانند ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ ائمہ اربعہ کا مذہب ہے کہ قرآنِ کریم کو صاف طاہر (پاک و صاف) شخص ہی چھو سکتا ہے، مصحف کو چھوئے بغیر حائضہ عورت کے قرآنِ کریم پڑھنے کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے، زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ صرف ضروریات کے وقت ایسا کرسکتی ہیں ۔ مثال کے طور پر [1] التلخیص الجیر لابن حجر: ۱/ ۱۳۱۔ موطا امام مالک میں اسی معنی کی روایت موجود ہے۔ ملاحظ ہو: موطا امام مالک، کتاب القرآن، باب الامر بالوضوء لمن مس القرآن۔