کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 32
حیض والی عورت سے اس کا خاوند فرج میں مجامعت کے علاوہ ہر جائز شکل میں استمتاع کرسکتا ہے، یعنی زن و شوئی کے تعلقات قائم کرسکتا ہے۔ دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : (( اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّکَاحَ۔)) [1] ’’ یعنی سوائے مجامعت کے ہر کام کرو۔ ‘‘ حالت حیض میں نماز اور روزہ حرام ہیں : ب:حیض والی عورت مدت حیض میں نماز نہیں پڑھے گی اور روزہ نہیں رکھے گی، اس پر روزہ نماز دونوں ہی حرام ہیں ، ان کی ادائیگی حالت حیض میں صحیح نہ ہوگی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرَأَۃُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ۔)) [2] ’’ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حالت حیض میں ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے۔ ‘‘ حیض سے پاک و صاف ہوجانے کے بعد عورت روزے کی قضا کرے گی اور نماز کی قضا نہیں کرے گی۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : (( کُنَّا نَحِیضُ عَلیٰ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم فَکُنَّا نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّلاَۃِ۔)) [3] [1] صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا، رقم: ۶۹۴۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب مواکلۃ الحائض ومجامعھا، رقم: ۲۸۵۔ [2] صحیح بخاری، کتاب الحیض، باب ترک الحائض الصوم، رقم: ۳۵۴۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان بنقص الطاعات۔ [3] صحیح بخاری، کتاب الحیض، باب لا تقضی الحائض الصلوٰۃ، رقم: ۳۲۱۔ صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض دون الصلوٰۃ، رقم: ۷۶۱۔ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی الحائض تقضی الصلوٰۃ، رقم: ۲۶۲۔ ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ما جاء فی الحائض انھا تقضی الصلوات، رقم: ۱۳۰۔