کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 28
(( لَوْ کُنْتِ اِمْرَأَۃً لَغَیَّرْتِ أَظْفَارَکِ یَعْنِی بِالْحَنَائِ۔)) [1] ’’ اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو تبدیل کرلیتی۔ (یعنی مہندی سے) ‘‘ لیکن ایسی چیزوں سے وہ اپنے ناخنوں کو ہرگز نہیں رنگ سکتی ہے، جو ان پر منجمد ہو کر طہارت کے پانی کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ [2] سیاہ خضاب کی ممانعت: (۲خواتین کا اپنے بالوں کو رنگنے اور ان میں خضاب لگانے کا جہاں تک سوال ہے، تو اگر بالوں میں سفیدی ظاہر ہوچکی ہے تو انہیں سیاہ رنگ کے علاوہ کسی دوسرے رنگ سے رنگ سکتی ہے، کیونکہ سیاہ خضاب سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ممانعت میں مردوں اور عورتوں کے درمیان عمومیت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ ریاض الصالحین (ص: ۶۲۶) میں ایک باب کا عنوان قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ مردوں اور عورتوں کو سیاہ خضاب لگانے کی ممانعت۔ ‘‘ اور المجموع شرح المہذب (۱/ ۳۲۴) میں لکھتے ہیں : ’’ سیاہ خضاب سے ممانعت میں مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، یہی ہمارا مذہب ہے۔ ‘‘ اگر ایک عورت اپنے سیاہ بالوں کو کسی دوسرے رنگ سے بدلنے کے لیے خضاب لگاتی ہے تو میں جہاں تک سمجھتا ہوں یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بالوں کے لیے سیاہ رنگ ہی خوبصورتی کا باعث ہوتا ہے اور اس میں ایسی کوئی بدشکلی نہیں پائی جاتی کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جائے اور اس میں کافر عورتوں سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ [1] ابو داؤد، کتاب الترجل، باب فی الخضاب للنساء، رقم: ۴۱۶۶۔ نسائی، کتاب الزینۃ، باب الخضاب للنساء، رقم: ۵۰۹۲۔ [2] جیسے نیل پالش کے رنگ۔