کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 26
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر (۲/ ۳۵۹، مطبوعہ دار الاندلس) میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔ اس سنگین اور خطرناک وباء میں آج بیشمار عورتیں مبتلا ہوگئی ہیں ۔ درحقیقت یہ ایک کبیرہ گناہ ہے، صورتِ حال یہ ہوگئی ہے کہ ابرو کے بال صاف کرنا روز مرہ کی ضروریات میں شامل ہوگیا ہے، اگر کسی عورت کا خاوند اس کا حکم دے تو بھی اس کی اطاعت جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک معصیت اور گناہ کا کام ہے۔ دانتوں کو گھِسا کر ان میں جھری (دراز) بنانا حرام ہے: ج:زینت و آرائش کے مقصد سے دانتوں کو گھسا کر ان میں جھری (دراز) بنانا مسلم خواتین کے لیے حرام ہے، وہ اس طرح سے کہ خوبصورتی پیدا کرنے کے لالچ میں دانتوں کو ریتی سے گھسا کر ان کے درمیان مختصر شگاف بنالیا جائے۔ البتہ اگر دانتوں میں کسی قسم کی بدشکلی پائی جاتی ہو اور اس کو دور کرنے اور دانتوں کو صحیح کرنے کے لیے آپریشن کی ضرورت پڑے یا ان میں کیڑے پیدا ہوجائیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے اصلاح کی ضرورت پیش آئے تو اس میں کوئی حرج یا مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ یہ علاج و معالجہ اور بدصورتی کو ختم کرنے کے قبیل سے ہے اور اسے اسپیشلسٹ لیڈی ڈاکٹر کے ہاتھوں انجام دیا جائے۔ جسم میں گودنا گودوانے کا عمل: د:جسم میں گودنا گودوانے کا عمل بھی عورتوں پر حرام ہے، کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واشمہ اور مستوشمہ پر لعنت بھیجی ہے۔ [1] [1] حدیث کے الفاظ یہ ہیں : (( لعن النبی صلي اللّٰہ عليه وسلم الواصلہ والمستوصلہ والواشمۃ والمستوشمۃ۔)) [صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب المستوشمہ، رقم: ۵۹۴۰، ابو داؤد، کتاب الترجل، باب فی صلۃ الشعر، رقم: ۴۱۷۵، ترمذی، ابواب اللباس، باب ما جا فی مواصلۃ الشعر، رقم: ۱۷۵۹، نسائی، کتاب الزینۃ، باب لعن الواشمۃ والمستوشمہ، رقم: ۵۱۰۲۔]