کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 24
چیز استعمال کرتی ہیں ۔ ‘‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (( مَا مِنْ اِمْرَأَۃٍ تَجْعَلُ فِی رَأسِھَا شَعْراً مِنْ شَعْرِ غَیْرِھَا إِلاَّ کَانَ زُوْرًا۔)) [1] ’’ اگر کوئی عورت اپنے سر میں کسی غیر کے بال لگاتی ہے تو وہ جھوٹ اور فریب ہوتا ہے۔ ‘‘ باروکہ (وِگ) ایسے مصنوعی بالوں کو کہتے ہیں جو سر کے بالوں کے مشابہ تیار کیا جاتا ہے، اس کے استعمال میں فریب اور دھوکہ دہی ہوتی ہے۔ بالوں کو منڈوانے والی خواتین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت: ب:مسلم خواتین کے لیے ابرو کے تمام بالوں کو یا بعض بالوں کو مونڈ کر، ترشوا کر یا بال صفا دوائیں (Hair Remove Creams) استعمال کرکے صاف کرنا حرام ہے کیونکہ اسی کو نمص کہا جاتا ہے جس کا ارتکاب کرنے والی خواتین پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے، چنانچہ حدیث میں ہے: (( لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم النَّامِصَۃَ وَالْمُتَنَمِّصَۃَ۔)) [2] ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نامصہ اور متنمصہ پر لعنت بھیجی ہے۔ ‘‘ نامصہ :… اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خیال میں زیب و زینت اختیار کرنے کے لیے اپنے ابرو کے تمام بالوں کو یا کچھ بالوں کو صاف کرتی ہے ۔ [1] صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب الوصل فی الشعر، رقم: ۵۹۳۸، صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم فعل الواصلہ والمستوصلہ، رقم: ۵۵۶۵، نسائی، کتاب الزینۃ، باب وصل الشعر بالخرق: ۵۰۹۶، ابو داؤد، کتاب الترجل باب فی صلۃ الشعر، رقم: ۴۱۶۸۔ [2] المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۲/ ۳۹۵۵۔ ۹/ ۴۳۴۳، صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم فعل الواصلہ والمستوصلہ والواشمہ والمستوشمہ والنامصہ والمتنمصۃ، رقم: ۵۵۷۳، نسائی، کتاب الزینۃ، باب لعن المتنمصات، رقم: ۵۱۰۲، ابو داؤد، کتاب الترجل، باب فی صلۃ الشعر، رقم: ۴۱۷۰۔