کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 23
کرے، درحقیقت یہ فرنگی (یورپی) خواتین اور ان کے نقش قدم پر چلنے والی مسلم خواتین کی کنگھی کا طریقہ ہے۔ ‘‘[1] مصنوعی بال (وِگ) کے متعلق حکم: جس طرح خواتین کو بلا ضرورت سروں کے بالوں کو منڈوانے یا چھوٹا کرانے سے روکا گیا ہے اسی طرح انہیں اپنے بالوں میں مزید دوسرے بالوں کو جوڑ کر اضافہ کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ صحیحین میں وارد ہے: (( لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلي اللّٰہ عليه وسلم الْوَاصِلَۃَ وَالْمُسْتَوْصِلَۃَ۔)) [2] ’’ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واصلہ اور مستوصلہ پر لعنت بھیجی ہے۔ ‘‘ واصلہ :… اس عورت کو کہتے ہیں جو کسی غیر کے بالوں کو جوڑ کر بالوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ مستوصلہ :… اس عورت کو کہتے ہیں جس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اس وجہ سے ممنوع اور حرام ہے کہ اس میں فریب اور دھوکہ پایا جاتا ہے، اس ممنوعہ اضافہ میں باروکہ یعنی وِگ کا استعمال بھی شامل ہے جو اس وقت کافی شہرت اختیار کرتا جارہا ہے۔ امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ وغیرہ کی روایت کہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے ایک تقریر کی، دورانِ تقریر انہوں نے بالوں کا ایک گچھا نکال کر فرمایا: ’’ تمہاری خواتین کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے سروں میں اس طرح کی [1] مجموع فتاویٰ الشیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ ۲/ ۴۷۔ نیز ملاحظہ ہو: الایضاح والتبیین مؤلفہ شیخ حمود تویجری، ص: ۵۸۔ [2] المسند لامام احمد: رقم الحدیث: ۴۷۲۳، صحیح بخاری، کتاب اللباس ، باب الوصل فی الشعر، ح: ۵۹۳۴، صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم فعل الواحلہ والمستوصلہ، ح: ۵۵۶۹، ترمذی، ابواب اللباس، باب فی مواصلہ اشعر، ح: ۱۷۵۹، نسائی، کتاب الزینۃ، باب الواصلہ، ح: ۵۰۹۷، ابن ماجہ، ابواب النکاح، باب الواصلہ والواشمہ، ح: ۱۹۸۸۔