کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 19
حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے اور اسی میں خوبصورتی اور جمال ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتہ اس عمل کو انجام دیا جائے یا چالیس دن سے زیادہ انہیں نہ چھوڑا جائے۔ سر اور ابرو کے بالوں کے بارے میں اسلام کا حکم: الف:مسلم خواتین سر کے بالوں کا بڑھانا مطلوب ہے، بلا کسی ضرورت انہیں منڈوانا حرام ہے۔ شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمۃ اللہ علیہ سابق مفتی سعودی عرب فرماتے ہیں : ’’ عورتوں کے سروں کے بالوں کا مونڈنا جائز نہیں ہے کیونکہ امام نسائی نے اپنی سنن میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے، امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اور علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے سیّدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے سنداً روایت کیا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر کے مال منڈانے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘[1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہی (ممانعت) اگر اس کا کوئی معارض و مخالف حکم موجود نہ ہو تو تحریم کی متقاضی ہوتی ہے یعنی ایسی نہی تحریم کے لیے ہوتی ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقاۃ شرح مشکاۃ میں لکھتے ہیں : ’’ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک (( أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَۃُ رَأْسَھَا۔)) اس وجہ سے ہے کہ خواتین کے حق میں چوٹیوں کو شکل و صورت اور حسن و جمال میں وہی حیثیت حاصل ہے جو مردوں کے حق میں داڑھی کو حاصل ہے۔ ‘‘[2] سر کے بالوں کو زیب و زینت کے علاوہ کسی دوسرے مقصد سے چھوٹا کرنا، مثال کے طور پر ان کی حفاظت وغیرہ سے عورت عاجز ہوجائے یا اتنے زیادہ طویل [1] نسائی، کتاب الزینۃ، باب النہی عن حلق المرأۃ رائسھا، رقم: ۵۰۵۲۔ [2] مجموع فتاویٰ الشیخ محمد بن ابراہیم (۲/ ۴۹)