کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 18
باب دوم: خواتین کی جسمانی زینت و آرائش (بناؤ سنگھار) سے متعلق مسائل ناخن تراشنا خصائل فطرت میں سے ہے: (۱عورتوں کے مخصوص اور ان کے مناسب جو خصائل فطرت ہیں ان میں ناخن کا تراشنا اور برابر ان کی خبر گیری کرنا عورت سے مطلوب ہے، کیونکہ ناخن تراشنے کے مسنون ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے، یہ ان خصائل فطرت میں سے ہے جن کا ذکر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں وارد ہوا ہے۔ [1] ناخن کاٹنے میں نظافت اور خوبصورتی پائی جاتی ہے جب کہ انہیں بڑھانے میں بدشکلی، بھدا پن اور درندوں سے مشابہت پائی جاتی ہے، نیز ان کے نیچے پانی کا نہ پہنچنا اور ان کے اندر گندگی و غلاظت کا جمع ہونا، یہ سب خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔ سنت سے ناواقفیت اور کافر عورتوں کی تقلید کی وجہ سے بعض مسلم خواتین بھی ناخن بڑھانے کی وباء میں مبتلا ہوگئی ہیں ۔ زیر ناف اور بغل کے بالوں کی صفائی بھی عورتوں کے لیے مسنون ہے کیونکہ [1] ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتی ہیں : (( عشر من الفطرۃ: قص الشارب وإعفاء اللحیۃ والسواک واستنشاق الماء وقص الأظفار عشل البراجم ونتف الإبط وحلق العانۃ وانتقاص الماء۔ قال الراوي ونسیت العاشرۃ إلا أن تکون المضمضۃ۔)) [ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب السواک من الفطرۃ، رقم: ۵۳] … ’’ دس باتیں خصائل فطرت سے ہیں : مونچھوں کا تراشنا، داڑھی کا بڑھانا، مسواک، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے پوروں کا دھونا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیر ناف کا بنانا، استنجاء کرنا۔ راوی کہتا ہے کہ دسویں بات میں بھول گیا ہوں ، ہوسکتا ہے دسویں بات کلی کرنا ہو۔ ‘‘