کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 157
’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے کسی عورت کا ہاتھ کبھی بھی مس نہیں ہوا، صرف کلام کے ذریعہ آپ خواتین سے بیعت کرتے تھے۔ ‘‘ اور مصافحہ کرتے وقت کپڑے وغیرہ کے ذریعے دونوں ہاتھوں کے درمیان حد فاصل قائم کرنے یا نہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ ممانعت کے دلائل میں عمومیت پائی جاتی ہے اور فتنہ کے سد باب کے لیے عدم تفریق ہی مناسب ہے۔ شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر اضواء البیان (۶/ ۶۰۲، ۶۰۳) میں لکھتے ہیں : ’’ واضح ہوا کہ کسی اجنبی مرد کے لیے کسی اجنبی عورت سے مصافحہ جائز نہیں ہے اور نہ ہی مردانہ جسم کے کسی حصہ کا زنانہ جسم کے کسی حصے سے مس ہونا جائز ہے اور اس کے مختلف دلائل ہیں ۔ ‘‘ پہلی دلیل :… نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( إِنِّيْ لاَ أَصَافح النِّسَائَ …… الحدیث۔)) [1] ’’ بیشک میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔ ‘‘ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ﴾ (الاحزاب:۲۱) ’’ یقینا تمہارے لیے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘ لہٰذا ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے خواتین سے مصافحہ نہ کریں ۔ مذکورہ حدیث کی وضاحت سورۂ حج میں احرام یا غیر احرام کی حالت میں مردوں کے لیے مطلق معصفر (زعفرانی رنگ میں رنگے ہوئے) لباس کے استعمال کی ممانعت پر گفتگو کے وقت کرچکے ہیں اور سورۂ احزاب کی آیت حجاب کی تفسیر [1] المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۱۰/ ۲۷۶۴۳۔ نسائی، کتاب البیعۃ، باب بیعۃ النساء، رقم: ۴۱۸۶۔