کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 154
(۱۰/ ۵۲) میں فرماتے ہیں : ’’ اب اس امر میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی ہے کہ اجنبی عورت کا ڈرائیور کے ساتھ کسی محرم کی رفاقت کے بغیر تنہاکار میں سوار ہونا واضح طور پر ایک منکر عمل ہے، اس میں متعدد غیر معمولی خرابیاں ہیں ، خواہ ڈرائیور کے ساتھ کار میں بیٹھنے والی باحیا، شرمیلی لڑکی ہو یا پاکدامن بڑی عمر کی عورت ہو جو مردوں سے بالمشافہ بات چیت کرتی ہو، جو شخص اپنی محرم خواتین کے لیے اس امر کو پسند کرتا ہے، وہ دینی اعتبار سے کمزور، مردانگی میں ناقص اور بے غیرت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: (( مَا خَلاَ رَجُلٌ بِاِمْرَأَۃٍ إِلاَّ کَانَ الشَّیْطَانُ ثَالِثَھُمَا۔)) [1] ’’ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہوتا مگر شیطان ان دونوں کا تیسرا ہوتا ہے۔ ‘‘ عورت کا اجنبی مرد کے ساتھ کار میں سوار ہونا گھر وغیرہ میں اس کے ساتھ خلوت اختیار کرنے سے کہیں زیادہ خطرناک اور مضر ہے، کیونکہ وہ اس عورت کو شہر کے اندر یا شہر کے باہر اس کی رضا مندی کے ساتھ یا بغیر رضا مندی کے کہیں بھی لے جاسکتا ہے، اس سے جو خرابیاں لازم آئیں گی وہ مجرد خلوت سے لازم آنے والی خرابیوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور عظیم ہوں گی۔ جس شخص کے ذریعے خلوت کو ختم کیا جاسکتا ہے، اس کا بڑا ہونا بھی ضروری ہے، لہٰذا کم سن بچے کا موجود ہونا کافی نہیں ہے، اور بعض خواتین کا یہ تصور کہ اگر انہوں نے اپنے ساتھ کسی بچے کو لے لیا تو خلوت ختم ہوگئی ، غلط ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ شرح صحیح مسلم (۹/ ۱۰۹) میں فرماتے ہیں : ’’ اگر کوئی اجنبی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ بغیر کسی تیسرے شخص کی موجودگی [1] ترمذی، ابواب الرضاع، باب ما جاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات، رقم: ۱۱۷۱۔