کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 149
’’ حاصل کلام یہ ہے کہ ہر وہ مسافت جس پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے شوہر یا محرم کی معیت کے بغیر اس کا سفر کرنے سے عورت کو منع کیا جائے گا، خواہ وہ تین دن ہو یا دو دن ہو یا ایک دن ہو، ایک برید ہو یا اس سے بھی کم ہو کیونکہ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک حدیث مطلق سفر سے ممانعت میں وارد ہوئی ہے، جس کو مذکورہ احادیث کے بعد بالکل آخرمیں امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں : (( لاَ تُسَافِرْ اِمْرَأَۃٌ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ۔))[1] ’’ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ ‘‘ یہ حدیث ان تمام مسافات کو شامل ہے، جن پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے عورتوں کی ایک جماعت کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے عورت کو سفر کرنے کی اجازت دی ہے تو حقیقتاً فتویٰ خلاف سنت ہے۔ امام خطابی رحمہ اللہ معالم السنن (۲/ ۲۷۶، ۲۷۷) مطبوع مع تہذیب السنن لابن القیم میں لکھتے ہیں : ’’ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مرد محرم کی معیت کے بغیر عورت کے سفر کو ممنوع قرار دیا ہے، عورت کے سفر کے لیے جس شرط کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری قرار دیا ہے، اس کے فقدان کے باوجود سفر حج کے لیے عورت کے نکلنے کو جائز قرار دینا خلافِ سنت ہے، غیر محرم مرد کے ساتھ عورت کا سفر کرنا معصیت اور گناہ ہے، لہٰذا حج جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی ہے، اسے عورت پر معصیت اور گناہ کی طرف لے جانے والے کسی امر کے ذریعہ ضروری اور لازم قرار دینا جائز اور درست نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ میں (مؤلف) کہتا ہوں ان لوگوں نے محرم کی معیت کے بغیر مطلق سفر کی اجازت عورت کو نہیں دی ہے، بلکہ انہوں صرف فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے اس کو سفر کی [1] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع ذو محرم الی حج وغیرہ، رقم ایضًا۔