کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 148
’’ کسی محرم کی معیت کے بغیر عورت تین دن کی مسافت کا سفر طے نہ کرے۔ ‘‘ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بھی ہے، جس میں آپ فرماتے ہیں : (( أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰہ عليه وسلم نَھٰی أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَۃُ مَسَیِرَۃَ یَوْمَیْنِ أَوْ لَیْلَتَیْنِ إِلاَّ وَمَعَھَا زَوْجُھَا آَٔوْ ذُوْ مَحْرَمٍ۔)) [1] ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو شوہر یا محرم کی معیت کے بغیر دو دن یا دو رات کی مسافت طے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘ سیّدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بھی ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : (( لاَ یَحِلُّ لَاِمْرَأَۃٍ أَنْ تُسَافِرَ مَسیرَۃَ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ إِلاَّ مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ عَلَیْھَا۔)) [2] ’’ کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لیے بغیر ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر طے کرے۔ ‘‘ مذکورہ احادیث میں تین دن، دو دن، ایک دن اور ایک رات کی جو تحدید کی گئی ہے تو اس سے مراد اس زمانے کے وسائل نقل و حمل و پاپیادہ اور سواریوں کی مسافت ہے۔ تین دن، دو دن، ایک دن اور ایک رات یا اس سے بھی کم مسافت کی تحدید میں جو مختلف احادیث وارد ہوئی ہیں تو علمائِ کرام نے اس اختلاف کا جواب یہ دیا ہے کہ اس تحدید سے اس کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ہر وہ سفر ہے، جس پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے، اس سے عورت کو منع کیا گیا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح (۹/ ۱۰۳) میں لکھتے ہیں : [1] صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل الخ، رقم: ۵۳۳۳۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع ذو محرم الی حج وغیرہ، رقم: ۳۲۶۳۔ [2] صحیح بخاری، ابواب التقصیر، رقم: ۱۰۸۷۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع ذو محرم الی حج وغیرہ، رقم ایضًا۔