کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 147
مفہوم کی جانب سے۔ اب اسی سحر افرینی کے ساتھ ڈھول تاسہ، غزلیات اور نسوانی انداز میں پورے جسم کو بل دے کر رقص بھی جمع ہوجائیں تو اگر گانے کے ذریعے کوئی عورت حاملہ ہوسکتی ہے تو اس نوعیت کے گانے سے ضرور بالضرور حاملہ ہوجائے گی، کتنی ہی شریف زادیوں نے محض گانوں کی وجہ سے عصمت فروشی کی راہ اپنالی ہے۔ ‘‘ چنانچہ ایک مسلم خاتون کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور خوف اختیار کرنا چاہیے اور اس سنگین مہلک اخلاقی بیماری سے پرہیز کرنا چاہیے جو آج مسلمانوں کے درمیان مختلف وسائل و ذرائع اور متعدد اسلوب اور انداز سے گانوں کی شکل میں پھیلتی جارہی ہے، جن کو بہت سی نادان دو شیزائیں ان کے اصل مصادر و منبع سے طلب کر کے آپس میں ایک دوسرے کو بطور تحفہ (گفٹ) پیش کرتی ہیں ۔ محرم کی معیت کے بغیر خواتین کے سفر حرام: عفت و عصمت کی حفاظت کے مختلف طرق و وسائل میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ عورت کسی ایسے محرم کے بغیر سفر پر نہ نکلے جو اسے اوباشوں ، بدکاروں اور آوارہ لوگوں کے برے ارادوں اور بری نیتوں سے تحفظ فراہم کرسکے اور بچاسکے، محرم کے بغیر عورت کے سفر کرنے کی ممانعت میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں ، انہی احادیث میں سے سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بھی ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : (( لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ إِلاَّ وَمَعَھَا ذُوْ مُحَرَمَ۔)) [1] [1] صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل بالمرأۃ، رقم: ۵۳۳۳۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع ذو محرم الی حج وغیرہ، رقم: ۳۲۵۸۔ ابو داؤد، کتاب المناسک، باب فی المرأۃ تحج بغیر محرم، رقم: ۱۷۲۶۔ ترمذی، ابواب الرضاع باب ما جاء فی کاھیۃ ان تسافر المرأۃ وحدھا، رقم: ۱۱۷۰۔ ابن ماجہ، ابواب المناسک، باب المرأۃ تحج بغیر ولی، رقم: ۲۸۹۸۔