کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 140
سے صحیح حدیث میں ثابت ہے: (( وَلاَ تَمَسَّ طِیْبًا۔)) [1] ’’ اور عورت خوشبو نہیں استعمال کرے گی۔ (۲جسمانی زیب و زینت: ایسی عورت کے لیے خضاب لگانا اسی طرح زیب و زینت کی تمام اشیاء جیسے سرمہ وغیرہ اور جلد کو رنگنے والی انواع و اقسام کی چیزوں کا استعمال حرام ہے البتہ اگر اس کو بطور علاج اور دوا کے سرمہ لگانے کی ضرورت پیش آجائے تو رات کے وقت سرمہ لگاسکتی ہے، لیکن دن میں اسے صاف کردے گی، سرمہ کے علاوہ غیر زینت کی چیزوں سے اپنی آنکھوں کا علاج کرسکتی ہے، اس میں کوئی مضائفہ یا حرج نہیں ہے۔ (۳زیب و زینت کے لباس پہن کر زینت اختیار کرنا بھی ممنوع ہے، ہر وہ لباس جس میں زیب و زینت نہ پائی جاتی ہو پہن سکتی ہے، اس سلسلے میں کوئی مخصوص رنگ متعین نہیں ہے، لیکن مختلف معاشروں میں مخصوص رنگ کے لباس کا استعال عام طور پر لوگوں کی عادت بنتی جارہی ہے، جس کا شریعت سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (۴انواع و اقسام کے زیورات، یہاں تک کہ انگوٹھی بھی نہیں استعمال کرے گی۔ (۵جس مکان یا منزل میں اپنے خاوند کی وفات کے وقت وہ تھی اس کے علاوہ کسی دوسرے مکان میں یا گھر میں رات گزارنا اور اس گھر سے کسی شرعی عذر کے بغیر منتقل ہونا بھی جائز نہیں ہے، کسی مریض کی عیادت یا کسی قریبی رشتے دار یا سہیلی سے ملاقات کے لیے اپنے گھر سے نہیں نکل سکتی ہے۔ البتہ دن میں اپنے ضروری کاموں کے لیے نکل سکتی ہے۔ مذکورہ پانچ امور کے علاوہ کسی دیگر مباح امر سے عورت کو نہیں روکا جائے گا۔ [1] صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب تلبس الحادۃ ثیاب العصب، رقم: ۵۳۴۳۔ صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب وجوب الاحداد فی عدۃ الوفاۃ، رقم: ۳۷۴۵۔