کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 136
’’ تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں ۔ ‘‘ یہ حکم مدخول بِھَا، وغیرہ مدخول بِھَا کم سن اور عمر دراز سب کو شامل ہے، اس میں حاملہ عورت داخل نہیں ہوگی، کیونکہ دوسری آیت کے ذریعہ وہ خارج ہوجاتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأُوْلَاتِ الْأَحْمَالِ أَجَلُھُنَّ أَنْ یَّضَعْنَ حَمَلَھُنَّ ﴾ ’’ حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔ ‘‘[1] عدت گزار پر کیا کیا چیزیں حرام ہیں (۱) شادی کا پیغام: الف)ایسی عورت جو طلاق رجعی کی عدت گزار رہی ہو اس کو شادی کا پیغام دینا صراحت کے ساتھ یا اشاروں کنایوں میں دونوں طرح سے حرام ہے، کیونکہ وہ ابھی بیوی کے حکم میں ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ کوئی اسے شادی کا پیغام دے، کیونکہ وہ ابھی تک اپنے شوہر کی زوجیت اور اس کی ماتحتی میں ہے۔ ب)غیر رجعی طلاق کی عدت گزارنے والی عورت کو صراحت کے ساتھ شادی کا پیغام دینا حرام ہے، البتہ اشاروں کنایوں میں اس کو شادی کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ﴿وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ﴾ (البقرہ:۲۳۵) ’’ تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے شادی کی بات کہو۔ ‘‘ [1] الھدی النبوی مؤلفہ ابن القیم: ۵/ ۵۹۴، محقق ایڈیشن۔