کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 128
فرشتوں کی لعنت: آپ ہی سے تیسری حدیث مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( إِذَا دَعَا الرَّجُلُ اِمْرَأَتَہٗ إِلَی فِرَاشِہٖ فَلَمْ تَأْتِہٖ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْھَا لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی تُصِبْحُ۔)) [1] ’’ اگر آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہے اور وہ نہیں آتی ہے جس کی وجہ سے شوہر اس پر ناراض ہو کر رات گزارتا ہے تو فرشتے اس (عورت) پر صبح ہونے تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی: صحیح مسلم کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا مِنْ رَجُلٍ یَدُعُوْ اِمْرَأَتَہٗ إِلَی فِرَاشِہٖ فَتَأبٰی عَلَیْہِ إِلاَّ کَانَ الَّذِيْ فِی السَّمَائِ سَاخِطًا عَلَیْھَا حَتّٰی یَرْضٰی عَنْھَا۔)) [2] ’’ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بھی مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہے اور وہ انکار کرتی ہے تو وہ ذات جو آسمان پر ہے اس عورت پر ناراض رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہوجائے۔ ‘‘ عورت شوہر کے گھر کی محافظ و نگہبان ہے: عورت کے اوپر عائد شوہر کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اس کے گھر [1] صحیح بخاری، کتاب النکاح باب اذا باتت المرأۃ مھاجرۃ فراش زوجھا، رقم: ۵۱۹۳۔ صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا، رقم: ۳۵۳۸۔ [2] صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا، رقم: ۳۵۴۵۔