کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 126
گیت گانا ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ (رحمہم اللہ) نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (۶/ ۲۰۰) میں لکھتے ہیں : ’’ یہ حدیث دلیل ہے کہ نکاح (شادی بیاہ) میں دف بجانا، بآواز بلند گیت گانا جیسے؛ (( أَتَیْنَاکُمْ أَتَیْنَاکُمْ …)) [1] وغیرہ جائز ہے، بشرطیکہ ایسے گیت نہ ہوں جن سے شر و فساد کو ہوا ملتی ہو یا جن میں حسن و جمال، فسق و فجور اور جام و جم کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہو، کیونکہ یہ تمام چیزیں نکاح (شادی بیاہ) میں ویسے ہی حرام ہیں ، جس طرح عام موقعوں پر حرام ہیں ، اسی طرح دیگر تمام حرام لہو و لعب کی چیزیں حرام و ممنوع ہیں ۔ ‘‘ شادی بیاہ میں فضول خرچی سے بچو: مسلمان خواتین کو شادی بیاہ کے موقع پر زیورات اور کپڑوں کی خریداری میں حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اس اسراف کے قبیل سے ہے، جس کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی ہے اور بتلادیا ہے کہ وہ اسراف کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ ارشادِ ربانی ہے: ﴿وَلَا تُسْرِفُوْا إِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ﴾ (الانعام:۱۴۱) ’’ اور حد سے مت گزرو، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ ‘‘ [1] سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دلہن کی رخصتی کے موقع پر کہا تھا کہ تم لوگوں نے اس کے ساتھ کسی عورت کو کیوں نہیں بھیجا جو جا کر گاتی۔ (( أَتَیْنَاکُمْ أَتَیْنَاکُمْ فَحَیُونَا نَحْیِیْکُمْ۔)) ’’ یعنی ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، ہمارا یہاں آنا ہمیں اور تمہیں مبارک ہو۔ ‘‘ [المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۵/ ۱۶۷۱۲۔ ابن ماجہ، ابواب النکاح، باب الغناء والدف،رقم: ۱۹۰۰] عبدالحمید گوندل