کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 124
ساتھ شادی کرنی چاہیے۔ ‘‘ لڑکی کی شادی میں ولی الامر کی شرط: عورت کو اپنے موافق و مناسب شوہر کے انتخاب و اختیار کا جو حق دین اسلام نے عطا کیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کو اس بات کی مکمل چھوٹ اور آزادی دے دی گئی ہے کہ جس سے چاہے وہ شادی کرسکتی، خواہ اس کی اس شادی کی وجہ سے اعزاء و اقرباء اور اہل خاندان کی عزت و آبرو پر کسی قسم کی آنچ ہی کیوں نہ آئے بلکہ اسے ایک ایسے ولی سے مربوط کیا گیا ہے جس کی زیر نگرانی وہ اپنے شوہر کا انتخاب کرے گی۔ ولی اس کی صحیح رہنمائی کرے گا اور عقد نکاح کا وہی ذمہ دار ہوگا، اسی کے ہاتھوں عقد کے تمام امور انجام پائیں گے۔ عورت کو از خود شادی کرنے یا عقد نکاح کا حق حاصل نہیں ہے، اگر وہ از خود عقد نکاح کا عمل انجام دیتی ہے تو اس کا نکاح باطل ہوگا، کیونکہ سنن میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں آتا ہے: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح باطل ہے: (( أَیُّمَا اِمْرَأَۃٍ نَکَحَتْ نَفْسَھَا بِغَیْرٍ إِذْنِ وَلِیِّھَا فَنَکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ۔)) [1] ’’ جس عورت نے ازخود اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ ‘‘ (امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو حسن کہا ہے۔) سنن ہی میں یہ حدیث بھی مروی ہے: [1] سنن ترمذی، ابواب النکاح، باب ماجاء لا نکاح الا بولی، رقم: ۱۱۰۲۔ سنن ابو داؤد، کتاب النکاح، باب فی الولی، رقم: ۲۰۸۳۔ سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح، باب لا نکاح الا بولی، رقم: ۱۸۷۹۔