کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 122
إِذْنُھَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْکُتَ۔)) [1] ’’ باکرہ عورت کی شادی اس کی اجازت حاصل کیے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی کیسے اجازت حاصل کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ خاموش رہے۔ ‘‘ نکاح کے لیے لڑکی کی اجازت لازمی ہے: لہٰذا اہل علم کے صحیح قول کے مطابق باکرہ بالغہ عورت سے اس کی شادی کی رضا مندی اور اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، خواہ اس کی شادی کرنے والا اس کا والد ہی کیوں نہ ہو۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ الھدی النبوی (۵/ ۹۶) میں لکھتے ہیں : ’’ جمہور سلف اور امام ابو حنیفہ کا اور امام احمد رحمہما اللہ کا ایک روایت کے مطابق یہی قول ہے؛ یہی ہمارے نزدیک بھی راجح ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قول ہم اختیار نہیں کرتے، کیونکہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان امرو نہی کے مطابق و موافق ہے۔ ‘‘ بیوہ و مطلقہ عورت کے نکاح کے لیے اس کی اجازت ضروری ہے: شادی شدہ عورت کی (دوسری) شادی بھی اس کی اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ البتہ اس کی اجازت صریح الفاظ (ہاں یا نہیں ) میں حاصل کی جائے گی۔ برخلاف باکرہ (غیر شادی شدہ) عورت کے کہ اس کی خاموشی ہی کو اجازت تصور کیا جائے گا۔ المغنی (۶/ ۴۹۳) میں مذکور ہے: [1] صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا ینکح الاب وغیرہ البکر، رقم: ۵۱۳۷۔ صحیح مسلم، کتاب النکاح باب استیذان الثیب فی النکاح بالنطق والبکر بالسکوت، رقم: ۳۴۷۳۔