کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 120
شادی کے لیے عورت کی رضا مندی: جس خاتون کی شادی مقصود ہوتی ہے اس کی تین حالتوں میں سے کوئی ایک حالت ہوگی: ۱:یا تو وہ کم سن باکرہ (غیر شادی شدہ) ہوگی۔ ۲:یا وہ بالغہ باکرہ ہوگی۔ ۳:یا وہ ثیبہ ہوگی، یعنی جس کی پہلے شادی ہوچکی ہو اور ہر ایک کے لیے الگ مخصوص حکم ہے۔ کم سن لڑکی کا نکاح اس کا والد کرسکتا ہے: کم سن باکرہ (غیر شادی شدہ) کے بارے میں علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے والد کو اس کی شادی کا حق حاصل ہے۔ کیونکہ کمسن بچی کی اجازت کا کوئی معنی ہی نہیں ہے۔ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی لخت جگر سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سال کی عمر میں کی تھی اور نو سال کی عمر میں ان کی رخصتی کردی تھی۔ [1] علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (۶/ ۱۲۸، ۱۲۹) میں لکھتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ بلوغت سے قبل باپ کو بیٹی کی شادی کردینے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ ‘‘ مزید لکھتے ہیں : ’’ یہی حدیث اس امر پر بھی دال ہے کہ کم سن لڑکی کی شادی بڑی عمر کے مرد سے کی جاسکتی ہے۔ ‘‘ [1] صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب النکاح الرجل ولدہ الصغار، رقم: ۵۱۳۳۔ صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب جواز ترویج الاب البکر الصغیر، رقم: ۳۴۷۹۔ نسائی، کتاب النکاح، باب النکاح الرجل ابنتہ الصغیرہ، رقم: ۳۳۵۷۔