کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 119
ہے کہ تجربات واضح برہان کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مسلم بہنوں کی عمر ضائع ہونے سے پہلے شادی کرنی چاہیے: مسلم بہنوں کو اپنے عنفوان شباب ہی میں عمر ضائع ہونے سے پہلے شادی کے سلسلے میں جلد بازی سے کام لینا چاہیے جب کہ وہ مردوں کی نظروں میں قابل رغبت ہوں ۔ تعلیم جاری رکھنے یا سروس پر برقرار رہنے کی خاطر شادی کو کبھی بھی موخر نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ کامیاب ازدواجی زندگی میں ہی ان کی سعادت اور سکون مضمر ہے۔ شادی کے ذریعہ تعلیم یا سروس کے نقصانات کی تلافی کی جاسکتی ہے، لیکن تعلیم یا سروس خواہ وہ جس مقام و معیار کی ہو شادی کا متبادل نہیں ہوسکتی، انہیں اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو بجا لانے اور اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں پوری توجہ سے کام لینا چاہیے، یہی ان کا بنیادی عمل ہے جو ان کی زندگی میں کارآمد اور نفع بخش ہے، لہٰذا شادی کے مقابلہ میں کسی متبادل کی تلاش میں نہیں رہنا چاہیے کوئی دوسری چیز اس کے مساوی نہیں ہوسکتی۔ نیک بخت اور صالح شخص سے شادی کرنے میں کسی قسم کی تساہلی اور تاخیر نہیں برتنی چاہیے اس لیے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے: (( إِذَا أَتَاکُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِیْنَہٗ وَخُلُقَہٗ فَانْکِحُوْہُ إِلاَّ تَفْعَلُوْا تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِیْضٌ )) [1] ’’ جب تمہارے پاس کوئی شخص آئے، جس کے دین و اخلاق سے تم مطمئن اور راضی ہو تو اس سے (اپنی بچیوں کی) شادی کردو۔ اگر ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ برپا ہوگا اور زبردست طریقے سے فساد اور برائی پھیلے گی۔ ‘‘ (اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کو حسن کہا ہے۔ اس کے متعدد شواہد بھی ہیں ۔) [1] ترمذی، ابواب النکاح، باب ما جاء فی من ترضون دینہ فزوجوہ، رقم: ۱۵۸۴۔