کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 115
﴿اِِنْ یَکُوْنُوْا فُقَرَائَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ﴾ (النور:۳۲) ’’ اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا، اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔ ‘‘ سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے: ’’ نکاح (شادی) میں اقتصادی خوشحالی تلاش کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِِنْ یَکُوْنُوْا فُقَرَائَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ﴾ (النور:۳۲) علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ اس اثر کو علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اسی معنی و مفہوم کا ایک اثر علامہ بغوی رحمہ اللہ نے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ ‘‘[1] مومنوں کے لیے شادی و طلاق کو مباح قرار دیا گیا ہے: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (۲۳/ ۹۰) میں لکھتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لیے شادی اور طلاق کو مباح قرار دیا ہے، چنانچہ اسلام میں دوسرے مرد سے شادی کرلینے اور اس کے طلاق دے دینے کے بعد اپنی مطلقہ عورت سے شادی کی اجازت ہے، لیکن نصاریٰ آپس میں ایک دوسرے پر شادی کو حرام قرار دیتے ہیں اور جن لوگوں نے اس کو مباح قرار دیا ہے، انھوں نے طلاق کی اجازت نہیں دی ہے۔ یہود [1] تفسیر ابن کثیر: ۵/ ۹۴۔۹۵ مطبوعہ دار الاندلس۔