کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 111
بِالْبَیْتِ إِذْ کَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْاِفَاضَۃِ )) [1] ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کو طواف (وداع) سے قبل واپس ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، بشرطیکہ طواف افاضہ پہلے کرچکی ہو۔ ‘‘ امام نووی رحمہ اللہ المجموع (۸ / ۲۸۱) میں علامہ ابن المنذر کے حوالہ سے لکھتے ہیں : ’’ تمام اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں امام مالک، اوزاعی، ثوری، احمد، اسحاق، ابو ثور، ابو حنیفہ (رحمہم اللہ) وغیرہ شامل ہیں ۔ ‘‘ علامہ ابن قدامہ المغنی (۳/ ۴۶۱) میں لکھتے ہیں : ’’ یہی عام فقہاء کا قول ہے۔ ‘‘ مزید لکھتے ہیں : ’’ نفاس والی عورت کا بھی وہی حکم ہے جو حائضہ کا ہے، کیونکہ کسی چیز کے ساقط ہونے یا واجب ہونے میں حیض و نفاس دونوں کا حکم یکساں ہے۔ ‘‘ خواتین کے لیے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کا حکم: نماز کی ادائیگی اور ذکر و دعاء کے لیے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواتین کے حق میں مستحب ہے۔ بشرطیکہ ان کی زیارت محرم کے ساتھ ہو، لیکن قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ان کے لیے جائز نہیں ہے کیونکہ زیارت قبور سے خواتین کو منع کیا گیا ہے۔ شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ سابق مفتی سعودی عرب اپنے مجموع فتاویٰ (۳/ ۲۳۹) میں لکھتے ہیں : ’’ اس مسئلہ میں صحیح اور راجح مسلک یہ ہے کہ خواتین کے لیے قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت دو اسباب کی بناء پر ممنوع ہے۔ ‘‘ [1] المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۱/ ۳۵۰۵۔