کتاب: خواتین کے مخصوص مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں - صفحہ 104
کہتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی یا یہ کہ میں نے ایک عمل کو دوسرے عمل پر مقدم یا مؤخر کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے: (( لاَ حَرَجَ إِلاَّ عَلیٰ رَجُلٍ اِِقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ رَجُلٍ مُّسْلِمٍ وَھُوَ ظَالِمٌ فَذٰلِکَ الَّذِيْ ھَلَکَ وَحَرَجَ۔)) [1] ’’ کوئی حرج نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس نے مسلمان شخص کی عزت ظالمانہ طریقے سے برباد کی تو وہ البتہ تباہ ہوگیا، حرج میں پڑگیا (اور گنہگار ہوا)۔ ‘‘ تو اس حدیث کو امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے، اس کے تمام رواۃ صحیحین کے رواۃ ہیں ، سوائے صحابی رسول امامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کے۔ اس حدیث کو علامہ خطابی وغیرہ نے جس معنی و مفہوم پر محمول کیا ہے، اسی پر محمول کیا جائے گا اور وہ یہ ہیکہ سائل کا یہ کہنا کہ میں نے طواف سے پہلی سعی کرلی یعنی طواف قدوم کے بعد اور طواف افاضہ سے پہلے سعی کرلی۔ طواف کے بعد سعی کا حکم: استاذِ محترم علامہ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر اضواء البیان (۵/ ۲۵۲) میں فرماتے ہیں : ’’ واضح ہو کہ جمھور اہل علم کا قول ہے کہ سعی طواف کے بعد ہی صحیح ہوسکتی ہے، اگر طواف سے پہلے سعی کرلی تو یہ سعی جمہور کے نزدیک صحیح نہیں ہوگی، اس کے قائلین میں ائمہ اربعہ بھی شامل ہیں ۔ امام ماوردی وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ‘‘ اس کے بعد شیخ موصوف نے امام نووی کا کلام اور صحابی رسول ابن شریک رضی اللہ عنہ [1] ابو داؤد، کتاب المناسک، باب فی من قدم شیئًا قبل شیئی فی حجہٖ، رقم: ۲۰۱۸۔