کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 777
چال میں لہک اور ان میں حسن و قبح کو سمجھنے لگے تو عورت کو چاہیے کہ اس کے سامنے چہرے اور ہاتھ کے علاوہ کچھ ظاہر نہ کرے۔" [1] المختصر بعض ائمہ نے الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ کے الفاظ کو قید (اور شرط) قرار دیا ہے،اور کچھ نے اسے قید نہیں کیا بلکہ عورت بچوں کے سامنے اپنی زینت ظاہر کر سکتی ہے اور یہ الفاظ بطور غالب کیفیت کے کہے گئے ہیں،لہذا ان کا ظاہر مفہوم مراد نہیں ہے۔(محمد بن عبدالمقصود) سوال:جب کوئی عورت اپنے اقارب میں کوئی برائی دیکھے تو اس کا اس سلسلے میں کیا مؤقف ہونا چاہیے ؟ جواب:اسے چاہیے کہ بھلے انداز میں اس پر اپنی ناگواری اور ناراضی کا اظہار کرے،انداز گفتگو عمدہ اور نرم ہو،اوراس آدمی کے لیے ہمدردی کا پہلو بھی ہے۔ممکن ہے کہ وہ جاہل اور لا علم ہو،اورممکن ہے کہ کرخت مزاج بھی ہو۔اگر اس پر سختی کی گئی تو ممکن ہے کہ اس کی شرارت اور بڑھ جائے۔اور اس کی دلیل وہی ہے جو اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں ہے۔اوراس کے لیے دعا بھی ضرور ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح فرمائے۔اور یہ کہ فریقین میں نفرت پیدا نہ ہو۔نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے والے کو ایسے ہی ہونا چاہیے کہ وہ علم،بصیرت،نرمی اورتحمل سے موصوف ہو تاکہ مخاطب اصلاح قبول کر لے،نفرت نہ کرے،ضد اور ہٹ دھرمی پر نہ اتر آئے۔الغرض مصلح اور خیرخواہ کو چاہیے کہ الفاظ ایسے استعمال کرے،جن سے امید ہو کہ وہ حق کو قبول کر لے گا۔[2] (عبدالعزیز بن باز) سوال:میرے شوہر کی ایک قہوہ خانہ میں شراکت ہے،جسے لوگ کیفے ٹیریا بھی کہتے ہیں۔میں اسے کہتی ہوں کہ یہ مال حرام ہے۔تو کیا فی الواقع یہ حرام ہے یا حلال؟ اور حلال کیا ہے؟ جواب:خیال رہے کہ قہوہ خانہ میں مشروبات پیش کیے جاتے ہیں مثلا قہوہ،چائے،اور دیگر مشروبات وغیرہ،لیکن ساتھ ساتھ کچھ اور چیزیں بھی پیش کی جاتی ہیں مثلا حقہ جو حرام ہے۔اور اس بارے میں عام فتویٰ مساجد کے دروازوں پر بھی آویزاں کیا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی اور حقہ نوشی انتہائی نقصان دہ ہیں۔آپ علیہ السلام کا فرمان ہے:(لا ضرر ولا ضرار) "نہ نقصان اٹھانا ہے اور نہ نقصان دینا ہے۔"[3] علاوہ ازیں ممنوعہ لہو و لعب کی کچھ اور چیزیں بھی ان جگہوں پر مہیا کی جاتی ہیں جیسے کہ کیرم بورڈ اور چوسر [1] تفسیر ابن کثیر:3؍378،تحت آیت نمبر:31،سورۃ النور۔ [2] اور اپنے اقرباءمیں یہ عمل ایک تسلسل اور لمبی مدت چاہتا ہے۔حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ حق کی بات دل میں اتاردے۔(مترجم) [3] مسند احمد بن حنبل:1؍313،حدیث:2867والمستدرک للحاکم:2؍66،حدیث:2345وسنن الدارقطنی:3؍77،حدیث:288۔