کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 776
کیا حال ہے۔[1] اور بھائی جو نماز نہیں پڑھتا،اس کے ساتھ مصافحہ،بحیثیت مصافحہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔مگر بے نمازی سے مقاطعہ کرنا چاہیے۔ اس سے سلام نہ کرنا چاہیے اور نہ مصافحہ ہی،حتیٰ کہ وہ اسلام کی طرف رجوع کر آئے اور نماز پڑھنے لگے۔(محمد بن صالح عثیمین) سوال:ہمارے ہاں رواج ہے کہ آدمی عورتوں سے ملنے کے لیے آتا ہے تو وہ اس کے سر کو سلام (پیار) دیتی ہیں بشرطیکہ مرد کے سر پر رومال یا ٹوپی وغیرہ ہو،اور اس میں بوسہ نہیں ہوتا۔اس کا کیا حکم ہے؟ جواب:یہ جائز ہے بشرطیکہ عورت یہ کام اپنے محرم کے ساتھ کرے مثلا باپ یا بھائی وغیرہ۔اسی طرح وہ اس کے ساتھ مصافحہ بھی کر سکتی ہے مگر اجنبی کے ساتھ مصافحہ یا سر کو بوسہ وغیرہ نہیں دے سکتی،خواہ اس کے سر پر رومال ہو یا نہ ہو،تاکہ فتنے سے بچاؤ رہے۔(مجلس افتاء) سوال:کیا نو سال کے بچے کو عورتوں میں بیٹھنا جائز ہے؟ اسے کس عمر میں ان کی مجلس سے منع کیا جائے؟ جواب:وہ عمر جس میں بچے کے لیے عورتوں میں بیٹھنا ناجائز ہوتا ہے وہ اس کی بلوغت ہے،اور اس کی کچھ علامات ہیں،مثلا اس کے زیرناف سخت بال اُگ آئیں،یا احتلام ہو،یا پندرہ سال کا ہو جائے جیسے کہ بعض علماء کا قول ہے۔ اور عورت کو بھی چاہیے کہ جو بچہ سمجھ دار ہو گیا ہو کہ عورتوں میں خوبصورت اور بدصورت میں امتیاز کرتا ہو،بغیر اس کی عمر کے لحاظ کے،اس کے سامنے اپنے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ کچھ ظاہر نہ کرے۔اللہ عزوجل کا فرمان ہے: أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ (النور:24؍31) "وہ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوئے ہوں،ان کے سامنے زینت ظاہر کی جا سکتی ہے۔" بعض علمائے کرام نے دانا اور سمجھ دار بچے کو "عام بچوں" کے حکم سے مستثنیٰ کیا ہے کہ اس فرمان الہٰی میں "بچوں کی غالبیت" کا بیان ہے،اس میں عموم نہیں۔ بہرحال عورت کے لیے جائز ہے کہ نابالغ بچوں کے سامنے بیٹھ جائے،اور وہ حصہ ظاہر نہ کرے جو وہ اجانب کے سامنے ظاہر نہیں کر سکتی ہے۔یعنی کام کاج کے کپڑوں میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ "جب بچہ عورتوں کے ناز نخرے،بات چیت میں لوچ، [1] صحیح بخاری،کتاب فضائل الصحابۃ،باب ھجرۃالنبی واصحابہ الی المدینۃ،حدیث:3704سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی قبلۃ الخلد،حدیث:5222السنن الکبری للبیھقی:7؍101،حدیث:13360۔