کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 747
بکل مارے رہیں،اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے،یا اپنے والد کے،یا اپنے خسر کے،یا اپنے لڑکوں کے،یا اپنے خاوندوں کے لڑکوں کے،یا اپنے بھائیوں کے،یا اپنے بھتیجوں کے،یا اپنے بھانجوں کے،یا اپنی میل جول کی عورتوں کے،یا غلاموں کے،یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں،یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہ ہوئے ہوں،اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے۔اے مسلمانو!تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پا جاؤ۔" اور فرمایا: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ (الاحزاب:33؍53) "اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کیا کرو۔یہ انداز تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزگی والا ہے۔" اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ»،قيلَ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ،أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ:«الْحَمْوُ الْمَوْتُ» "اپنے آپ کو اجنبی عورتوں کے ہاں جانے سے باز رکھو۔" کہا گیا:"اے اللہ کے رسول!دیور کے متعلق فرمائیے؟" فرمایا:"دیور تو موت ہے۔" [1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کے لیے کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور علیحدگی میں ہونے سے مطلقا طور پر منع فرمایا ہے اور متنبہ کیا کہ (ان ثالثهما شيطان) "ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔"[2] اور عورت کو پابند کیا ہے کہ سفر ہمیشہ اپنے محرم کی معیت میں کیا کرے۔اس سے مقصود فساد کی راہ کو روکنا،گناہ کا دروازہ بند کرنا اور اسباب شر ختم کرنا ہے۔ یہ آیات اور احادیث اپنے مفہوم و مقصد میں صریح ہیں کہ مردوں عورتوں کا ایسا اختلاط اور میل جول جو خرابی کا باعث ہو،اس سے دور رہنا اور بچنا واجب ہے۔ایسے اختلاط سے خاندان کا شیرازہ بکھرتا اور معاشرہ گندگی اور خرابی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔اور بعض مسلمان ممالک میں جہاں عورت کو گھر سے باہر نکالا گیا ہے اور وہ اپنے فطری [1] صحیح بخاری،کتاب النکاح،باب لایخلون رجل بامراۃ۔۔۔۔۔،حدیث:4934وصحیح مسلم،کتاب السلام،باب تحریم الخلوۃ بالاجنبیۃ،حدیث:2172وسنن الترمذی،کتاب الرضاع،باب کراھیۃ الدخول علی المغیبات،حدیث:1171۔ [2] وسنن الترمذی،کتاب الرضاع،باب کراھیۃ الدخول علی المغیبات،حدیث:1171ومسند احمد بن حنبل:1؍26،حدیث:177،مسند الحمیدی:1؍19،حدیث:32۔