کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 697
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالحَرِيرُ لِلإِنَاثِ مِنْ أُمَّتِي،وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا " "سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال اور اس کے مردوں کے لیے حرام کیا گیا ہے۔"[1] (عبدالعزیز بن باز) سوال:عورت کے لیے سونے کے بٹن استعمال کرنا کیسا ہے؟ جواب:عورت کے لیے سونے یا غیر سونے کے بٹن استعمال کرنا جائز ہیں،بشرطیکہ وہ خاص مردوں کے بٹنوں کی طرح کے نہ ہوں،کیونکہ احادیث میں ہے،سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پکڑا اور اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیا،اور سونا پکڑا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ میں لیا اور فرمایا: "یہ دونوں میری امت کے مردوں کے لیے حرام ہیں۔"[2] اور ابن ماجہ کی روایت میں مزید ہے کہ:"یہ ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں۔"[3] اور یہ حدیث حسن درجہ کی ہے۔علاوہ ازیں سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"سونا میری امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام کیا گیا ہے۔"[4] یہی وجہ ہے کہ علامہ رافعی رحمہ اللہ نے ان لوگوں کا قول رد کیا ہے جنہوں نے عورت کے لیے سونے کے بٹن ممنوع کہے ہیں۔ علامہ محمد بن عبدالرحمٰن المعروف "حطاب" نے شرح مختصر خلیل میں بیان کیا ہے کہ "اور (سونے) کی وہ چیزیں جو عورتیں اپنے بالوں کے لیے یا اپنے دامنوں اور کپڑوں کے بٹن وغیرہ بنا لیتی ہیں،یعنی جو ان کے لباس کا حصہ ہوں،تو وہ جائز ہیں۔اگر مردوں کا کوئی خاص انداز ہو تو عورتوں کو اس کا استعمال جائز نہیں ہو گا،کیونکہ عورتیں مردوں کی مشابہت کرنے سے روکی گئی ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] سنن النسائی،کتاب الزینۃ،باب تحریم الذھب علی الرجال،حدیث:5148ومسند احمد بن حنبل:4؍392،حدیث:19520،19521۔ [2] سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب فی الحریرللنساء،حدیث:4057،وسنن النسائی،کتاب الزینۃ،باب تحریم الذھب علی الرجال،حدیث:5144وسنن ابن ماجہ،کتاب اللباس،باب لبس الحریر والذھب للنساء،حدیث:3595ومسند احمد بن حنبل:1؍115،حدیث:935۔ [3] وسنن ابن ماجہ،کتاب اللباس،باب لبس الحریر والذھب للنساء،حدیث:3595مصنف ابن ابی شیبۃ:5؍125،حدیث:24659۔ [4] سنن النسائی،کتاب الزینۃ،باب تحریم الذھب علی الرجال،حدیث:5148ومسند احمد بن حنبل:4؍392،حدیث:19521،19520۔