کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 611
سوال:میں اپنی پھوپھی زاد سے شادی کرنا چاہتا ہوں،جبکہ میرے بڑے بھائی نے میری پھوپھی کا ایک سے زیادہ بار دودھ پیا ہے،لیکن میں نے نہیں پیا،اور اسی طرح میری پھوپھی زاد نے بھی میری والدہ کا دودھ نہیں پیا ہے،تو کیا ہمارا رشتہ ہو سکتا ہے یا کیا میں اس کا بھائی بن گیا ہوں؟ جواب:اس سوال کا جواب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ملتا ہے،فرمایا: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ "یعنی رضاعت (دودھ پینا) وہ سب رشتے حرام کر دیتا ہے جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔"[1] کیونکہ اصل قرابت نسب سے ہے۔اور اس حدیث میں دلیل ہے کہ آپ کے لیے جائز ہے کہ اپنی پھوپھی زاد سے شادی کر سکتے ہیں،اگرچہ آپ کے بھائی نے اس لڑکی کی ماں کا دودھ پیا ہے۔آپ کا کوئی ایسا تعلق نہیں بنتا جو حرمت کا باعث ہو یا آپ اس کے بھائی بنیں،کیونکہ آپ نے اس کی ماں کا یا اس لڑکی نے آپ کی ماں کا دودھ نہیں پیا ہے تو وہ بھی آپ کی بہن نہ بنی۔ رضاعت کی حرمت دودھ پلانے والی عورت اور اس کے شوہر کی طرف سے صرف دودھ پینے والے بچے اور اس کی اولاد کی طرف منتقل ہوتی ہے اور ان پر مؤثر ہوتی ہے (شوہر کی طرف اس لیے کہ عورت کا دودھ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔اور اسے صاحب اللبن کہا جاتا ہے)۔ دودھ پینے والے کے دوسرے بہن بھائی یا اس کے ماں باپ یا جو ان سے اوپر ہوں ان کی طرف یہ حرمت مؤثر نہیں ہوتی ہے۔اس طرح دودھ پلانے والی عورت اس پینے والے کی ماں،اس عورت کی ماں اس بچے کی نانی،عورت کا باپ اس بچے کا نانا،عورت کے بھائی اس بچے کے ماموں،عورت کی بہنیں اس بچے کی خالائیں بن جاتی ہیں۔اور وہ مرد جو صاحب اللبن ہوتا ہے وہ عورت کا شوہر ہو یا آقا اور مالک حتی کہ وہ مرد بھی جس نے کسی شبہ کے تحت اس عورت سے ملاپ کیا ہو،اس دودھ پینے والے بچے کا باپ،اور اس کی اولاد اس پینے والے کے بہن بھائی،اس مرد کے بھائی اس بچے کے چچا اور اس کی بہنیں اس بچے کی پھوپھیاں بن جاتی ہیں اور یہ سب تفصیلات ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ (رضاعت )دودھ پینے سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں) سے حاصل ہوتی ہے۔[2] (محمد بن صالح عثیمین) [1] صحیح بخاری،کتاب الشھادات،باب الشھادۃعلی الانساب والرضاع،حدیث:2502وصحیح مسلم،کتاب الرضاع،باب تحریم الرضاعۃ من ماءالفحل،حدیث:1445۔سنن النسائی،کتاب النکاح،باب مایحرم من الرضاع،حدیث:3301وسنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب یحرم من الرضاع مایحرم من النسب ،حدیث:1937۔ [2] صحیح بخاری،کتاب الشھادات،باب الشھادۃعلی الانساب والرضاع،حدیث:2502وصحیح مسلم،کتاب الرضاع،باب تحریم الرضاعۃمن ماءالفحل،حدیث:1445۔سنن النسائی،کتاب النکاح،باب مایحرم من الرضاع،حدیث:3301وسنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب یحرم من الرضاع مایحرم من النسب،حدیث:1937۔