کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 566
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرَكُ الصَّلَاةِ" "بندے اور کفر و شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فاصلہ ہے۔" [1] مسند احمد اور سنن میں ہے،حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ،فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ" "ہمارے اور ان کافروں کے درمیان نماز ہی کا عہد ہے۔جس نے اسے چھوڑ دیا وہ کافر ہوا۔"[2] علاوہ ازیں اور بھی کئی دلائل ہیں اور کتاب و سنت سے یہی ثابت ہے۔واللّٰه المستعان (عبدالعزیز بن باز) سوال:ایک عورت کا شوہر ہے کہ وہ جب بھی گھر میں آتا ہے بیوی بچوں کو مارتا ہے۔براہ مہربانی اسے اور اس جیسے اور لوگوں کو نصیحت فرمائیں۔ جواب:یہ آدمی اللہ کا فرمان اور شریعت کا مخالف ہے۔اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ بھلے انداز میں زندگی گزاریں۔یہ کوئی معروف اور بھلا انداز نہیں ہے کہ آدمی گھر میں آئے تو غصے سے بھرا ہوا ہو اور گھر والوں کو ڈانٹنے،جھڑکنے یا مارنے کے درپے رہے۔ایسا انداز کسی ضعیف العقل اور دین میں ناقص آدمی ہی کے متعلق سمجھا جا سکتا ہے۔اس پر واجب ہے کہ اگر وہ باسعادت زندگی چاہتا ہے تو گھر میں ہشاش بشاش آئے اور بچوں کے ساتھ عمدہ برتاؤ کرنے والا بنے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأِهْلِهِ،وَأنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي" "تم میں سے بہترین وہی ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو،اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بڑھ کر بہتر ہوں۔"[3] (محمد بن صالح عثیمین) سوال:ایک نوجوان عورت،ایک شخص سے اس کی شادی ہوئی ہے،اس مرد کو ایک ایسی بیماری لاحق ہو گئی ہے کہ
[1] صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ،حدیث:82۔سنن الترمذی،کتاب الایمان،باب ترک الصلاۃ،حدیث:2619۔مسلم اور ترمذی کی روایت میں شرک کا لفظ پہلے اور کفر کا بعد میں ہے،البتہ ترمذی میں"و"کی جگہ"او"ہے۔ [2] سنن الترمذی،کتاب الایمان،باب ترک الصلاۃ،حدیث:2621وسنن النسائی،کتاب الصلاۃ،باب الحکم فی تارک الصلاۃ،حدیث:463وسنن ابن ماجہ،کتاب اقامۃالصلاۃوالسنۃفیھا،باب ماجاءفیمن ترک الصلاۃ،حدیث:1079۔ [3] سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فضل ازواج النبی،حدیث:3895وسنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب حسن معاشرة النساء،حدیث:1977۔