کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 554
باز رہنے والے ہو؟ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور ڈرتے رہو۔اگر منہ پھیرو گے تو جانتے رہو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے۔" اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،آپ نے فرمایا ہے کہ "ہر نشہ آور خمر (شراب) ہے،اور ہر نشہ آور حرام ہے۔" [1] اور شراب کے حرام ہونے پر تمام مسلمانوں کا کلی اجماع ہے،اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے،حتیٰ کہ تمام اہل علم کہتے ہیں کہ دین اسلام میں شراب کا حرام ہونا بدیہی طور پر ثابت ہے۔اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی شراب کی حرمت کا انکاری ہو تو وہ کافر ہے،اس سے توبہ کرائی جائے۔اگر توبہ کر لے تو بہتر ورنہ قتل کر دیا جائے۔ تو اے محترم بھائی میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ شراب چھوڑ دیں پھر وہ دوبارہ کہتا ہوں کہ اس سے باز رہیں۔اس کے مقابلے میں اللہ نے آپ کو کتنے ہی پاکیزہ مشروبات دے رکھے ہیں،ان سے لذت اٹھائیں۔یہ شراب ام الخبائث ہے یعنی گناہوں کی ماں اور ان کی اصل ہے،ہر خرابی کی جڑ ہے۔اور جو شخص اسے چھوڑنے کی نیت اور اس کا عزم کر لے،اس کے لیے اس کا چھوڑنا بہت ہی آسان ہے،بشرطیکہ اس کی نیت سچی ہو،اللہ اسے توفیق دے دیتا ہے۔ اور آپ کی نسبت اے خاتون،بات یہ ہے کہ آپ کا اس آدمی کے ساتھ گزارا کرنا حرام اور ممنوع نہیں ہے۔کیونکہ شراب نوشی سے آدمی کافر نہیں ہو جاتا ہے۔بہرحال آپ کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اس سے خیر خواہی کریں اور سمجھاتی رہیں،امید ہے اللہ اسے سمجھ عنایت فرما دے گا۔ اور جو آپ اس سے فراش میں علیحدہ رہتی ہیں،اگر اس میں مصلحت ہو اور امید ہو کہ وہ اس انداز سے متنبہ ہو گا اور شراب نوشی سے باز آ جائے گا تو یہ جائز ہے۔لیکن اگر مصلحت نہ ہو تو آپ کے لیے یہ عمل حلال نہیں ہے،کیونکہ وہ کسی ایسے عمل کا مرتکب نہیں ہے جس سے وہ آپ کے لیے حرام ٹھہرتا ہو۔(محمد بن صالح عثیمین) سوال:ایک آدمی نے اپنی بیٹی کا نکاح جو طلاق یافتہ تھی،ایک آدمی سے کر دیا۔نکاح کو تقریبا چالیس دن ہی ہوئے تھے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ باپ نے اس شوہر سے کہنا شروع کر دیا کہ میری بیٹی کو طلاق دے دے۔بلکہ اس حد تک اصرار کیا کہ طلاق بتہ دے جس میں رجوع نہ ہو۔اس کے سامنے کسی اور کو کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی۔بالآخر شوہر نے باپ کی دھمکیوں اور عدالتوں کے چکروں کی وجہ سے مجبور ہو کر لڑکی کو طلاق دے دی۔سوال یہ ہے کہ کیا باپ کو یہ حق حاصل ہے؟ اور کیا اس طرح سے دی ہوئی طلاق ہو جاتی ہے جبکہ وہ اسے بیوی بنا کر رکھنا چاہتا ہے اور بیوی بھی اس کے پاس رہنا چاہتی ہے؟ مزید یہ کہ وہ اس سے پہلے طلاق یافتہ بھی ہے۔ جواب:باپ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے شوہر کو مجبور کرے کہ وہ اس کی بیٹی کو طلاق دے دے،اور نہ ہی [1] صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ،باب ان کل مسکر خمر،حدیث:2003وسنن ابی داود،کتاب الاشربۃ،باب النھی عن المسکر،حدیث:3679وسنن الترمذی،کتاب الاشربۃ،باب شارب الخمر،حدیث:1861۔