کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 55
دجال مشرق سے ظاہر ہو گا سوال:دجال کہاں ظاہر ہو گا؟ جواب:دجال کا ظہور مشرق کی جانب سے ہو گا جسے کہ آپ علیہ السلام نے شرور و فتن کی جگہ فرمایا ہے ((الفتنة ها هنا)) [1]’’فتنہ اِدھر ہے۔‘‘ اور آپ نے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔یہ مشرق میں خراسان سے نکلے گا اور پھر اصفہان سے شام و عراق کے درمیان جزیرہ میں آئے گا اور اس کا ہدف مدینہ منورہ میں پہنچنا ہو گا کیونکہ یہ شہر نبی علیہ السلام البشیر والنذیر کا شہر ہے۔وہ چاہے گا کہ اس شہر کے رہنے والوں پر اپنا تسلط جمائے،لیکن اس کا اس میں داخلہ حرام ہے وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ "اس مدینہ کے ہر دروازے پر فرشتے ہوں گے،اس کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔"[2] الغرض!یہ دجال شام و عراق کے درمیان سے ظہور کرے گا اور اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کی پیروی کریں گے،یہی اس کے لشکری ہوں گے۔اور یہودی اللہ کی بدترین مخلوق ہیں اور یہ دجال سب سے بڑھ کر گمراہ ہو گا،تو یہودی ہی اس کا اتباع کریں گے،اس کو ٹھکانہ دیں گے اور اس کی مدد کریں گے بلکہ مسلح لشکری ہوں گے،اور لوگ بھی ہوں گے۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’’اے اللہ کے بندو!ثابت قدم رہنا!ثابت قدم رہنا۔‘‘[3] (اللہ ہمیں ثابت قدم رکھے) کیونکہ معاملہ انتہائی حساس اور خطرناک ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ "جو دجال کا سنے تو وہ اس سے دور رہے،قسم اللہ کی،ایسے بھی ہو گا کہ آدمی اس کے پاس آئے گا اور وہ اپنے متعلق سمجھتا ہو گا کہ وہ صاحب ایمان ہے مگر اس (دجال) کے پھندے میں پھنس جائے گا،اس لیے کہ اس کے شبہات ہی کچھ اس قسم کے ہوں گے۔"[4] آدمی سمجھتا ہو گا کہ یہ مجھے گمراہ نہیں کر سکتا اور میں اس سے متاثر نہیں ہوں گا،لیکن وہ اس پر اپنے شبہات اس انداز سے ڈالے گا کہ بالآخر اس کا متبع ہو جائے گا۔اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔(محمد بن صالح عثیمین) دجال کے عجیب و غریب دعوے سوال:دجال کی ابتداکیسے ہو گی اور وہ کس چیز کی دعوت دے گا؟ جواب:بیان کیا جاتا ہے کہ وہ جب ظاہر ہو گا تو ابتدا میں اسلام کی دعوت گا اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر [1] صحيح بخاري،كتاب بدء الخلق،باب صفة ابليس و جنوده،حديث 3279. صحيح ابن حبان:15؍24 [2] صحيح بخاري،ابواب فضائل المدينة،باب لا يدخل المدينة،حديث 1879،1881. مسند احمد بن حنبل:5؍43 [3] مسند احمد بن حنبل:4؍181،المستدرك للحاكم،4؍537،575 [4] المعجم الكبير للطبراني:18؍221،حديث 551